MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے

غزل فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے کہ زلزلوں کی حکومت گلی گلی میں ہے دیا کہیں بھی جلانا مجھے خبر کرنا مرے لہو کا اجالا بھی روشنی میں ہے وہ مسکرا کے خدا کا پتا بتاتا ہے نہ جانے کون سا جادو اس آدمی میں ہے چلا ہوں موت کے پیکر کو […]

فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے Read More »

جو چند لوگ مرے شعر سن کے جاتے ہیں

غزل جو چند لوگ مرے شعر سن کے جاتے ہیں طلسم ہوش ربا پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں مسرتوں کو سمجھنے کی کیسی رت آئی سگان شہر بھی اب قہقہے لگاتے ہیں لباس مانگ کے پہنا ہے کچھ رفیقوں نے اور اس پہ لطف مجھے آئنہ دکھاتے ہیں وہی بتائیں گے تنہا شبوں کی معراجیں جو

جو چند لوگ مرے شعر سن کے جاتے ہیں Read More »

ایک شب میں کمرے کا روپ ڈھل گیا کیسے

غزل ایک شب میں کمرے کا روپ ڈھل گیا کیسے وہ تو گیلی لکڑی تھا رات جل گیا کیسے ایک طرفہ چاہت بھی کیسا درد ہوتی ہے میں ہوں آج تک پتھر وہ بدل گیا کیسے کل تمام بستی میں سیل خوں بہا لیکن ایک سر پھرا قاتل کل سنبھل گیا کیسے وہ زمین زادوں

ایک شب میں کمرے کا روپ ڈھل گیا کیسے Read More »

زاویہ ہونٹوں کا وہ دل کش بناتا کس طرح

غزل زاویہ ہونٹوں کا وہ دل کش بناتا کس طرح روح زخمیدہ بہت تھی مسکراتا کس طرح انگلیاں بھی قوت بینائی رکھتی ہیں بہت میں کسی کے جسم کو یہ سچ بتاتا کس طرح کل مرے بچے بھی آ سکتے ہیں خوشبو کے لیے شہر گل میں زہر کے کانٹے بچھاتا کس طرح فن کی

زاویہ ہونٹوں کا وہ دل کش بناتا کس طرح Read More »

خدا تھا منتظر اک آدمی کا

غزل خدا تھا منتظر اک آدمی کا یہ قصہ ہے کسی روشن صدی کا ملے جلتا ہوا گھر جب کسی کا تو لکھنا مرثیہ تم روشنی کا جو ممکن ہو تو زندہ رکھنا رشتہ انا کا اور نیزے کی انی کا کہیں خوشبو نفس کی اڑ نہ جائے لفافہ بند رکھنا زندگی کا شریف شہر

خدا تھا منتظر اک آدمی کا Read More »

وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گی

غزل وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گی اگر مرے ساتھ ساتھ آئیں تو اک نئی زندگی ملے گی انہیں کو ہاں بس انہیں کو اے قیسؔ منزل زندگی ملے گی مصیبتوں کے ہجوم میں بھی لبوں پہ جن کے ہنسی ملے گی قفس کی تاریک خلوتوں پر ہیں معترض

وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گی Read More »

یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے

غزل یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے رات اک حادثہ بن گئی ہے یہ مری شان بادہ کشی ہے اس نظر نے پلائی تو پی ہے تیرے غم نے مری زندگی کو لذت زندگی بخش دی ہے چپ بھی ہو جاؤ اے لٹنے والو رہنماؤں پہ بات آ گئی ہے یہ تری ہجو بادہ

یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے Read More »

دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں

غزل دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں ہاں بظاہر ترے ہاتھوں کا کھلونا ہوں میں اب جہاں چاند لب بام ابھرتا ہی نہیں جانے کیوں پھر انہیں گلیوں سے گزرتا ہوں میں کتنا نادان تھا میں ڈوب گیا جل بھی گیا وہ بہت کہتا رہا آگ کا دریا ہوں میں آرزو تھی

دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں Read More »

آج رسوا ہیں تو ہم کوچہ و بازار بہت

غزل آج رسوا ہیں تو ہم کوچہ و بازار بہت یا کبھی گیت بھی گاتے تھے سر دار بہت اپنے حالات کو سلجھاؤ تو کچھ بات بنے مل بھی جائیں گے کبھی گیسوئے خم دار بہت دل کے زخموں کو بھی ممکن ہو تو دیکھو ورنہ چاند سے چہرے بہت پھول سے رخسار بہت آج

آج رسوا ہیں تو ہم کوچہ و بازار بہت Read More »

ترے طلسم سے نکلے ہوئے زمانے ہوئے

 غزل ترے طلسم سے نکلے ہوئے زمانے ہوئے مجھے تو خود سے بھی بچھڑے ہوئے زمانے ہوئے سمیٹ رکھی ہیں پلکوں سے کرچیاں دل کی کہ خوش نظر کی حدوں سے ملے زمانے ہوئے کہاں ملی ہمیں منزل طلب کے راستے کی کہ تیرے ساتھ بھی چلتے ہوئے زمانے ہوئے صحیفہ پھر کوئی اترے زمینِ

ترے طلسم سے نکلے ہوئے زمانے ہوئے Read More »