فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے
غزل فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے کہ زلزلوں کی حکومت گلی گلی میں ہے دیا کہیں بھی جلانا مجھے خبر کرنا مرے لہو کا اجالا بھی روشنی میں ہے وہ مسکرا کے خدا کا پتا بتاتا ہے نہ جانے کون سا جادو اس آدمی میں ہے چلا ہوں موت کے پیکر کو […]
فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے Read More »