MOJ E SUKHAN

جو چند لوگ مرے شعر سن کے جاتے ہیں

غزل

جو چند لوگ مرے شعر سن کے جاتے ہیں
طلسم ہوش ربا پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں

مسرتوں کو سمجھنے کی کیسی رت آئی
سگان شہر بھی اب قہقہے لگاتے ہیں

لباس مانگ کے پہنا ہے کچھ رفیقوں نے
اور اس پہ لطف مجھے آئنہ دکھاتے ہیں

وہی بتائیں گے تنہا شبوں کی معراجیں
جو اپنی ذات کے مدفن میں ڈوب جاتے ہیں

ہر ایک لمحہ کسی جا رہی ہیں زنجیریں
عجب غلام ہیں ہم پھر بھی مسکراتے ہیں

نجانے کون مجھے یاد کر کے رویا قیسؔ
ہوا کے دوش پہ اشکوں کے جام آتے ہیں

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم