MOJ E SUKHAN

زاویہ ہونٹوں کا وہ دل کش بناتا کس طرح

غزل

زاویہ ہونٹوں کا وہ دل کش بناتا کس طرح
روح زخمیدہ بہت تھی مسکراتا کس طرح

انگلیاں بھی قوت بینائی رکھتی ہیں بہت
میں کسی کے جسم کو یہ سچ بتاتا کس طرح

کل مرے بچے بھی آ سکتے ہیں خوشبو کے لیے
شہر گل میں زہر کے کانٹے بچھاتا کس طرح

فن کی دولت بڑھ گئی تو دل کے ٹکڑے ہو گئے
میں سمندر بن گیا تو گھر بچاتا کس طرح

میں ہوں اک پتھر مگر دست ہنر میں رہ گیا
شیش محلوں کی ہے قسمت کیا بتاتا کس طرح

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم