MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تیرا ہی عکس گل تر دکھا رہا ہے

غزل تیرا ہی عکس گل تر دکھا رہا ہے تو ا رہا ہے یہ موسم بتا رہا ہے مجھے تیرے خیال کی پرواز بے کراں کی ہو خیر زمین سے سوئے فلک لے کے جا رہا ہے مجھے ہے مہربان بہت گردش زمین و زماں بچھڑ نہ جائے کہیں خوف  آرہا ہے مجھے یہ غم […]

تیرا ہی عکس گل تر دکھا رہا ہے Read More »

یہ ہے جینے کا مزہ رہنے دو

غزل یہ ہے جینے کا مزہ رہنے دو درد کا پیڑ ہرا رہنے دو حبس اتنا ہے گھٹا جاتا ہے دم اک دریچہ تو کھلا رہنے دو آس کا جگنو چمکتا رکھو دل کے داغوں کو ہرا رہنے دو روشنی کی ہے ضرورت سب کو اک روزن تو کھلا رہنے دو اک دیا اور نہ

یہ ہے جینے کا مزہ رہنے دو Read More »

کبھی کچے گھڑے کی ساتھی ہے

غزل کبھی کچے گھڑے کی ساتھی ہے کبھی دیوار میں چنی جائے جو ابھی تک نہیں لکھی میں نے وہ کہانی کبھی سنی جائے حد میں رہنا ہے کام عورت کا حد سے باہر رشی منی جائے بس وہی بات بات ہوتی ہے نہ کہی جائے اور نہ سنی جائے میں نے لکھی ہے وہ

کبھی کچے گھڑے کی ساتھی ہے Read More »

نظم خوشبوئیں رفاقت کی

نظم خوشبوئیں رفاقت کی میرے دل کے صحرا میں تیری یاد کے جگنو رات بھر چمکتے ہیں میرے دل کے زخموں کو پھول پھول کرتے ہیں اور ہجر لمحوں میں میرے پاس آتی ہیں خوشبوئیں رفاقت کی خوشبوئیں رفاقت کی عمر بھر کا حاصل ہیں عمر بھر کی ساتھی ہیں عمر کس کے ساتھی ہیں

نظم خوشبوئیں رفاقت کی Read More »

نظم ہجرتوں کے موسم میں

نظم ہجرتوں کے موسم میں اک خیال  اک راستہ منزلوں کی چاہت میں خواہش رفاقت میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں ہجرتوں کے موسم میں کتنے دشت آتے ہیں کوئی گھر نہیں آتا تیرگی میں سناٹا داستاں سناتا ہے ان بچھڑنے والوں کی جو فریب امکاں میں پھر کبھی نہیں آتے ہجرتوں کے موسم میں تشنگی

نظم ہجرتوں کے موسم میں Read More »

ساتھ کچھ دن گزارا کرنا تھا

غزل ساتھ کچھ دن گزارا کرنا تھا مجھ سے گر یوں کنارہ کرنا تھا جان تم پر نثار کر دیتے انکھ سے بس اشارہ کرنا تھا  مل ہی جاتے خوشی کے چند لمحے تم نے یہ کب گوارا کرنا تھا دل کی کشتی بچانے کو اخر تنکے ہی کو سہارا کرنا تھا میری کل کائنات

ساتھ کچھ دن گزارا کرنا تھا Read More »

ہم سے ملنے کا سلسلہ رکھنا

غزل ہم سے ملنے کا سلسلہ رکھنا دل میں چاہے کوئی شکوہ رکھنا محفل غیر میں چلے ائے تو مناسب ہے فاصلہ رکھنا آس کی شاخ سوکھتی جائے ہے قیامت پہ حوصلہ رکھنا کوئی بھٹکا ہوا نہ ا نکلے راہ میں ایک دیا جلا رکھنا وقت کی اندھیاں چلیں جتنی دل کا روبی کنول کھلا

ہم سے ملنے کا سلسلہ رکھنا Read More »

دل میں ہے جس کی ارزو اب تک

غزل دل میں ہے جس کی ارزو اب تک اس کی خوشبو ہے چار سو اب تک اس نے پھولوں سے گفتگو کی تھی ہے فدا ان پہ رنگ و بو اب تک ٹوٹ کے پھول بکھر گئے کب کے کیوں ہے بھنورے کی جستجو اب تک دور رہ کے بھی ہوں نشانے پر اس

دل میں ہے جس کی ارزو اب تک Read More »

سر خوشی میں جو دل مچلتے ہیں

غزل سر خوشی میں جو دل مچلتے ہیں پھر سخنور غزل میں ڈھلتے ہیں  سہل ہوتی نہیں سخن گوئی حزن ہو تو لہو اگلتے ہیں اف تمازت یہ دشت غربت کی لوگ سائے میں رہ کے چلتے ہیں شہر ظلمت میں خون کے دریا پاک جسموں سے ہی نکلتے ہیں ایک بدن دوسرے کی چاہت

سر خوشی میں جو دل مچلتے ہیں Read More »

شکستہ ہوا دل تو جانا یہ ہم نے

 غزل شکستہ ہوا دل تو جانا یہ ہم نے محبت میں لوگو خسارہ بہت ہے تیری یاد کا دیپ جلتا ہے من میں اندھیرے میں یہ ایک سہارا بہت ہے سمیٹوں گی میں کرچیاں دل کی خود ہی تیری چشم کا ایک اشارہ بہت ہے یہ ڈر ہے اتر جاؤں نہ میں ہی دل سے

شکستہ ہوا دل تو جانا یہ ہم نے Read More »