غزل
شکستہ ہوا دل تو جانا یہ ہم نے
محبت میں لوگو خسارہ بہت ہے
تیری یاد کا دیپ جلتا ہے من میں
اندھیرے میں یہ ایک سہارا بہت ہے
سمیٹوں گی میں کرچیاں دل کی خود ہی
تیری چشم کا ایک اشارہ بہت ہے
یہ ڈر ہے اتر جاؤں نہ میں ہی دل سے
تجھے اپنے دل میں اتارا بہت ہے
میرے خواب بکھرے تو کیا غم ہے روبی
سنا اس نے خود کو سنوارا بہت ہے
روبینہ راجپوت