سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی
غزل سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی جیون کی ہر شام ہمیں تب ایک کہانی لگتی تھی جس کا چاند سا چہرا تھا اور زلف سنہری بادل سی مست ہوا کا آنچل تھامے ایک دوانی لگتی تھی اپنے خواب نئے لگتے تھے اور پھر ان کے آگے سب دنیا اور زمانے […]
سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی Read More »