MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی

غزل سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی جیون کی ہر شام ہمیں تب ایک کہانی لگتی تھی جس کا چاند سا چہرا تھا اور زلف سنہری بادل سی مست ہوا کا آنچل تھامے ایک دوانی لگتی تھی اپنے خواب نئے لگتے تھے اور پھر ان کے آگے سب دنیا اور زمانے […]

سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی Read More »

کہیں ہم کیا کسی سے دل کی ویرانی نہیں جاتی

غزل کہیں ہم کیا کسی سے دل کی ویرانی نہیں جاتی ہماری زندگی بھی ہم سے پہچانی نہیں جاتی بظاہر ایسا لگتا ہے سبھی ہیں مست دنیا میں مگر چہروں سے پوشیدہ پریشانی نہیں جاتی روا داری کی چادر سے کہاں تک خود کو ڈھاپیں گے کہ اس کم ظرف دنیا میں تو یہ تانی

کہیں ہم کیا کسی سے دل کی ویرانی نہیں جاتی Read More »

شکایت ہم نہیں کرتے رعایت وہ نہیں کرتے

غزل شکایت ہم نہیں کرتے رعایت وہ نہیں کرتے مگر اس پر ستم کوئی وضاحت وہ نہیں کرتے رواں ہو کس طرح سے چاہتوں کا کارواں اپنا ہمیں رسوائی کا ڈر ہے بغاوت وہ نہیں کرتے ہمی جلوہ دکھاتے ہیں ہمی شوخی نگاہوں سے نہیں ہوتا اثر پھر بھی شرارت وہ نہیں کرتے نظر دو

شکایت ہم نہیں کرتے رعایت وہ نہیں کرتے Read More »

ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا

غزل ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا دیا اپنے مقدر کا نظر اب تک نہیں آیا تھیں جس بادل کے رستے پر ہوا کی منتظر آنکھیں وہ شہروں تک تو آیا تھا ادھر اب تک نہیں آیا نہ جانے جنگلوں میں ہم ملے کتنے درختوں سے گھنا جس کا لگے سایہ

ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا Read More »

ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے

غزل ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے ذرا سا دل بہل جائے تو شاید نیند آ جائے ابھی تو کرب ہے بے چینیاں ہیں بے قراری ہے طبیعت کچھ سنبھل جائے تو شاید نیند آ جائے ہوا کے نرم جھونکوں نے جگایا تیری یادوں کو ہوا کا رخ بدل جائے تو

ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے Read More »

زمانہ جھک گیا ہوتا اگر لہجہ بدل لیتے

غزل زمانہ جھک گیا ہوتا اگر لہجہ بدل لیتے مگر منزل نہیں ملتی اگر رستہ بدل لیتے بہت تازہ ہوا آتی بہت سے پھول کھل جاتے مکان دل کا تم اپنے اگر نقشہ بدل لیتے خطا تم سے ہوئی آخر تمہارا کیا بگڑ جاتا یہ بازی بھی تمہاری تھی اگر مہرہ بدل لیتے ابھی تو

زمانہ جھک گیا ہوتا اگر لہجہ بدل لیتے Read More »

کون سی مخلوق ہے یہ خاک پر

غزل کون سی مخلوق ہے یہ خاک پر چاہتی ہے تھوکنا افلاک پر کھال کھینچیں آپ اس گستاخ کی پھول کاڑھے آپ کی پوشاک پر اپنے ہی سایوں پہ منڈلاتے عقاب گدھ بنے اتریں گے ارض پاک پر فکر ہے گھر کی نہ ان کو سر کا ہوش بس کہیں مکھی نہ بیٹھے ناک پر

کون سی مخلوق ہے یہ خاک پر Read More »

یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی

غزل یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی بہت دیکھے ہیں یہ نقش قدم بھی یہ ناٹک ہو رہے ہیں مدتوں سے کہاں تک تالیاں پیٹیں گے ہم بھی نئے سجدے نئی ہیں سجدہ گاہیں رکھے جائیں گے بوسیدہ صنم بھی ابھی پردے اٹھیں گے دیکھ لینا نظر آئیں گے پس منظر میں ہم بھی

یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی Read More »

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا

غزل جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا وہ بت کیوں صبح کو ٹوٹا ہوا تھا اگر سچ کی حقیقت اب کھلی ہے تو جو اب تک نظر آیا تھا کیا تھا اگر یہ تلخیوں کی ابتدا ہے تو اب تک کون سا امرت پیا تھا کھلا ہے مجھ پہ اب دنیا کا مطلب مگر

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا Read More »

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں

غزل اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں میں تو چپ ہوں اب مری تنہائیاں باتیں کریں اتنی دیواروں میں اک دیوار ہی سمجھا مجھے آ کے میرے سائے میں پرچھائیاں باتیں کریں روکنا بھی ناروا ہے ٹوکنا بھی ناگوار کان تب ہوتے ہیں جب رسوائیاں باتیں کریں خود کلامی کا فسوں تنہائیوں کی گفتگو

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں Read More »