MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہیں ہم کیا کسی سے دل کی ویرانی نہیں جاتی

غزل

کہیں ہم کیا کسی سے دل کی ویرانی نہیں جاتی
ہماری زندگی بھی ہم سے پہچانی نہیں جاتی

بظاہر ایسا لگتا ہے سبھی ہیں مست دنیا میں
مگر چہروں سے پوشیدہ پریشانی نہیں جاتی

روا داری کی چادر سے کہاں تک خود کو ڈھاپیں گے
کہ اس کم ظرف دنیا میں تو یہ تانی نہیں جاتی

بہت سمجھا لیا دل کو بچھڑنا تو مقدر تھا
نہ جانے کیوں مرے دل سے پشیمانی نہیں جاتی

بہت ہی لاڈلا ٹھہرا یہ مانا دل ہمارا ہے
مگر اب اس کی ہر اک بات تو مانی نہیں جاتی

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم