MOJ E SUKHAN

ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا

غزل

ہمیں تو ساتھ چلنے کا ہنر اب تک نہیں آیا
دیا اپنے مقدر کا نظر اب تک نہیں آیا

تھیں جس بادل کے رستے پر ہوا کی منتظر آنکھیں
وہ شہروں تک تو آیا تھا ادھر اب تک نہیں آیا

نہ جانے جنگلوں میں ہم ملے کتنے درختوں سے
گھنا جس کا لگے سایہ شجر اب تک نہیں آیا

تذبذب کے اندھیروں میں بھٹکتا ہے وہ اک وعدہ
پلٹ کر جس کو آنا تھا وہ گھر اب تک نہیں آیا

سجانا چھوڑ دے پھولوں کو ان چاندی سے بالوں میں
فلک پر وہ ستارا اک اگر اب تک نہیں آیا

بھلا کر بس ذرا سی دیر سجدوں کی عبادت کو
یہ سوچو کیوں دعاؤں میں اثر اب تک نہیں آیا

جہاں لاکھوں محبت کے چراغوں سے اجالا ہو
فرحؔ روشن کسی دل کا وہ در اب تک نہیں آیا

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم