MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں

غزل بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں ہماری ہی کمائی سے ہمارے ہاتھ جلتے ہیں مرے اطراف میں یہ کھینچا تانی کم نہیں ہوتی ادھر پہلو بدلتا ہوں ادھر جالے بدلتے ہیں کسی کو بھی وہ انگارہ دکھائی ہی نہیں دیتا اشارے سے بتاتا ہوں تو اپنے ہاتھ جلتے ہیں میں اپنے […]

بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں Read More »

اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے

غزل اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے ہر گام مداری بیٹھے ہیں ہر وقت تماشا ہوتا ہے اب کون یہاں مجذوب نہیں بازار میں کیا موجود نہیں عرفان کی مالا بکتی ہے الہام کا سودا ہوتا ہے اپنی خلوت میں دھیان کہاں خاموشی ہے وجدان کہاں اک آندھی خاک

اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے Read More »

گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں

غزل گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں مگر کچھ مکڑیوں کی سرسراہٹ سی ہے کانوں میں زمیں زادوں کو اب مٹی سے تو وابستہ رہنے دو خدارا فصل نو کا ذوق رہنے دو کسانوں میں سروں سے آسماں بھی کیا ہٹایا جانے والا ہے شبیہیں مہر و مہ کی ٹانکتے ہو کیوں

گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں Read More »

کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں

غزل کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں تب کہیں ڈوبیں مرے خون جگر میں انگلیاں دیکھیے انجام کیا ہو اب وفا کی راہ پر ہم پہ تو اٹھی ہیں آغاز سفر میں انگلیاں آخر شب میں دیا خود کو بنایا تھا کبھی آج بھی جلتی ہیں امید سحر میں انگلیاں لکھ رہی ہیں

کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں Read More »

اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا

غزل اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا مگر مجھ سے ہی سننا چاہتا ہے وہ بیاں اپنا یہاں پر شان جاتی ہے وہاں پر جان جاتی ہے زمیں چھوٹی تو لگتا ہے کہ چھوٹا آسماں اپنا جو گزرا ہے سو گزرا ہے جو آئے گا سو آئے گا جو اب ہے وہ

اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا Read More »

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں

غزل دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں ہم اپنے ہی خوف کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں دیکھوں تو آئینے کا زنگار سلگتا ہے بند کروں تو آنکھوں کے انگارے جاتے ہیں ڈھونڈ رہے ہیں کب سے اپنے لہجے کا تریاک لفظ ہمارے ہم پر ہی پھنکارے جاتے ہیں نئے پرندے نئی اڑانیں

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں Read More »

نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق

غزل نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق ابھی دل پر ترے اترا کہاں عشق ابھی تک صرف آوازیں سنی ہیں ابھی تک لکھ رہی ہیں انگلیاں عشق زباں پر اس قدر گردان کیوں ہے تو کیسے ہوش میں کہتا ہے ہاں عشق زمیں سے آسماں تک گل کھلے ہیں تڑپ کر ہو رہے

نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق Read More »

پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں

غزل پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں کیوں ان جلتی آنکھوں میں اب رنگ برنگے خواب نہیں اک مدت سے کس ناطق کی نوک زباں پر اٹکا ہوں میں اک لفظ ہوں گویا وہ بھی معنی سے سیراب نہیں آنکھیں ہیں یا خار مغیلاں چہرہ ہے یا صحرا ہے لفظ

پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں Read More »

خوشبو کی کوئی منزل نہیں دیوندر ستیارتھی

خوشبو کی کوئی منزل نہیں دیوندر ستیارتھی سکھ ونت کی زبان سے وہ بات ہزار بار سننے پر بھی ہمیشہ نئی معلوم ہوتی کہ تخلیق کے لمحے آوارہ تتلیوں کی طرح ہوتے ہیں، جو کبھی ایک پھول پر جا بیٹھتی ہیں، کبھی دوسرے پر یا یہ کہ گھوڑی اس وقت تک بوڑھی نہیں ہوتی جب

خوشبو کی کوئی منزل نہیں دیوندر ستیارتھی Read More »

نئے دیوتا افسانہ نگار دیوندر ستیارتھی

نئے دیوتا افسانہ نگار دیوندر ستیارتھی   ترقی پسند ادیب نفاست حسن نے اپنے گھر کچھ ہم خیال ادیبوں کی محفل جمع کی ہے۔ نفاست حسن جس محکمے میں نوکری کرتے ہیں وہ محکمہ ان کے اصولوں کے برعکس ہے۔ کھانے کے دوران ادب پر بات شروع ہوتی ہے۔ مہمانوں میں شامل ایک ادیب انگریزی

نئے دیوتا افسانہ نگار دیوندر ستیارتھی Read More »