بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں
غزل بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں ہماری ہی کمائی سے ہمارے ہاتھ جلتے ہیں مرے اطراف میں یہ کھینچا تانی کم نہیں ہوتی ادھر پہلو بدلتا ہوں ادھر جالے بدلتے ہیں کسی کو بھی وہ انگارہ دکھائی ہی نہیں دیتا اشارے سے بتاتا ہوں تو اپنے ہاتھ جلتے ہیں میں اپنے […]
بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں Read More »