MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بحر الفت کا کہیں کوئی کنارا ہی نہیں

غزل

بحر الفت کا کہیں کوئی کنارا ہی نہیں
دشت فرقت کا دل افروز نظارا ہی نہیں

اب نہ تڑپاؤ مجھے چارہ گری کی خاطر
آ بھی جاؤ کہ مجھے ضبط کا یارا ہی نہیں

میں نے پیمان وفا باندھ لیا ہے اس سے
جس کو اک لمحہ مرا ساتھ گوارا ہی نہیں

ملتے ہی پھیر لیں اس طرح نگاہیں سب نے
ایسا لگتا ہے کوئی ان میں ہمارا ہی نہیں

اپنی آشفتہ سری کا جو مداوا کرتا
عصر حاضر میں کوئی ایسا سہارا ہی نہیں

ایسا کیا تھا کہ پیمبر اسے کہتی دنیا
دست مانی نے کوئی نقش ابھارا ہی نہیں

ہم نے بسملؔ غم و آلام سے بیعت کر لی
ماسوا ان کے کسی کو بھی پکارا ہی نہیں

بسمل اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم