MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میرا لب خموش اگر التجا کرے

غزل

میرا لب خموش اگر التجا کرے
شاید تری نگاہ کرم اعتنا کرے

اللہ زور بے اثری کا بھلا کرے
یکساں ہے کوئی نالہ کرے یا دعا کرے

دل اعتماد وعدۂ صبر آزما کرے
کام اپنا تیری شوخیٔ طاقت ربا کرے

اس کا شباب جوش پہ آئے خدا کرے
دل زندگی سے ہاتھ اٹھا کر دعا کرے

گر ہو سکے تو اتنا شہید جفا کرے
ہیں تیغ نگاہ یار کے حق میں دعا کرے

پروانہ دور گرد بساط امید ہو
در پردہ شمع بزم محبت جلا کرے

ایذا کشی کا دور بہار حیات ہے
دل اپنا گل فروشیٔ داغ جفا کرے

کچھ اختیار بھی ہے جو مجبوریاں ہیں کچھ
اس کشمکش میں کہئے تو انسان کیا کرے

پہنچے یہ عرش پر بھی تو پروا نہ ہو انہیں
کہئے تو نالہ میرا رسا ہو کے کیا کرے

آہ فلک رسا سے تو کچھ بھی نہ ہو سکا
شاید کہ کچھ بلندئ دست دعا کرے

مجبوریٔ اتم میں ہے زور اختیار کا
جو کام مجھ سے ہو نہ سکے وہ خدا کرے

قرآن میں لکھا ہے جو لا تقنطو صریح
ذوق نگاہ کہئے تو کیوں کر خطا کرے

کیوں چھیڑیں شوخیاں دل شورش پسند کو
کیوں بیٹھے بیٹھے کوئی قیامت بپا کرے

پھر دام میں پھنسوں گا کہ میں صید شوق ہوں
صیاد مشق کے لئے مجھ کو رہا کرے

لب آشنائے آرزوئے دل کبھی نہ ہو
اور ماجرائے عشق کا قصہ ہوا کرے

بیدلؔ جو مست ہو خبر فصل گل سے وہ
دعوائے پارسائی بے صرفہ کیا کرے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم