MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیوں کہا پاس ترے آئنۂ دل نہ رہے

غزل کیوں کہا پاس ترے آئنۂ دل نہ رہے کیا یہ خواہش ہے کوئی تیرا مقابل نہ رہے طالب درد کو مطلوب ہے سامان تپش نشتر غم رہے پہلو میں اگر دل نہ رہے ان کی یہ ضد ہے نرالی کہ مرے سینہ میں دل وارفتہ رہے آرزوئے دل نہ رہے ہاتھ بسمل نے بڑھایا […]

کیوں کہا پاس ترے آئنۂ دل نہ رہے Read More »

ہمارے دل ہی میں واعظ یہ راز رہنے دے

غزل ہمارے دل ہی میں واعظ یہ راز رہنے دے تجھے حسینوں سے ہے احتراز رہنے دے ہوس پرستوں سے کیسا حجاب کیا پردہ بس اب یہ شیوۂ انداز و ناز رہنے دے اگر عدو سے تجھے ہم کلام ہونا ہے مری طرف نگہ دل‌ نواز رہنے دے وہ بزم غیر میں ہم سے بھی

ہمارے دل ہی میں واعظ یہ راز رہنے دے Read More »

اس کو اب یہ خبر کریں کیوں کر

غزل اس کو اب یہ خبر کریں کیوں کر زندگی ہم بسر کریں کیوں کر تو جفا پر بھی تو نہیں قائم ہم وفا عمر بھر کریں کیوں کر چل گئے ہیں رقیب کے فقرے میری باتیں اثر کریں کیوں کر پاؤں رکھتا ہے غیر بھی اس پر سجدۂ سنگ ر کریں کیوں کر چشم

اس کو اب یہ خبر کریں کیوں کر Read More »

ہمیں ہیں مشق ستم ہائے آسماں کے لئے

غزل ہمیں ہیں مشق ستم ہائے آسماں کے لئے چنے گئے ہیں ہمیں یاس جاوداں کے لئے قسم خدا کی نہیں شوق زندگی ہم کو ہمیں یہ چاہئے اس حسن جاں ستاں کے لئے اضافہ اور غم جاں ستاں میں ہوتا ہے اثر بنا ہی نہیں ہے مری فغاں کے لئے خبر نہیں مرا تنکوں

ہمیں ہیں مشق ستم ہائے آسماں کے لئے Read More »

کیا عجب مرنے پہ بھی عشق کی خو ساتھ رہے

غزل کیا عجب مرنے پہ بھی عشق کی خو ساتھ رہے سوکھ بھی جائے اگر پھول تو بو ساتھ رہے کانپتے ہاتھوں سے دامان تقدس نہ چھٹے میکدے جاؤں تو اک ظرف وضو ساتھ رہے اے خیال رخ جاناں مری جاں تجھ پہ نثار دونوں عالم مجھے حاصل ہیں جو تو ساتھ رہے ہم گدائے

کیا عجب مرنے پہ بھی عشق کی خو ساتھ رہے Read More »

دوستوں کو یوں ستانا چھوڑ دے

غزل دوستوں کو یوں ستانا چھوڑ دے دشمنوں کا دل بڑھانا چھوڑ دے تم ہی دنیا بھی مری ہو دین بھی کیا ہے گر سارا زمانہ چھوڑ دے حال دل کہنا جو چاہا یہ کہا بے سر و پا یہ فسانہ چھوڑ دے بزم دشمن میں وہ جا کر لٹ گئے رہزن اور ایسا خزانہ

دوستوں کو یوں ستانا چھوڑ دے Read More »

خود محبت درد ہے اور درد کا درماں بھی ہے

غزل خود محبت درد ہے اور درد کا درماں بھی ہے ہے یہ وہ مشکل کہ مشکل بھی ہے اور آساں بھی ہے عاشق ابروئے جاناں عاشق مژگاں بھی ہے دل میں شوق تیغ ہے ذوق لب پیکاں بھی ہے میرے گھر آئیں گے وہ لایا ہے مژدہ نامہ بر یہ پیام زیست بھی ہے

خود محبت درد ہے اور درد کا درماں بھی ہے Read More »

ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دے

غزل ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دے زندگی کو نہ مری نذر تماشا کر دے جام الفت سے مرے لب کو شناسا کر دے وقف اوروں کے لئے وسعت دریا کر دے آستانوں کو تو بے شک نہ کمی ہے لیکن سجدہ ریزی کا جنوں تجھ کو نہ رسوا کر دے دیکھ

ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دے Read More »

اب تو زیبا نہیں اے رند گلہ بھی تیرا

غزل اب تو زیبا نہیں اے رند گلہ بھی تیرا جام ساقی نے سر بزم بھرا بھی تیرا دل میں جب گرمیٔ اخلاص و محبت ہی نہیں کام آنے کا نہیں حرف دعا بھی تیرا بے خطر ڈال دے موجوں میں سفینہ اپنا ناخدا بھی ہے ترا اور خدا بھی تیرا آج طوفان اٹھانے کو

اب تو زیبا نہیں اے رند گلہ بھی تیرا Read More »

یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہے

غزل یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہے چراغ شب کے جلاؤ کہ گھپ اندھیرا ہے بسا لیا تو ہے اک شہر آرزو دل میں نظر کے سامنے لیکن سکوت صحرا ہے بجھا کے پیاس ڈبویا نہ اپنی غیرت کو گواہ تشنہ لبی کا ہماری دریا ہے سواد شہر میں آئے تو روشنی

یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہے Read More »