MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد

غزل

باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد
بھول کر آئی نہ اس سمت صبا تیرے بعد

تیری زلفوں کی مہک تیرے بدن کی خوشبو
ڈھونڈھتی پھرتی ہے اک پگلی ہوا تیرے بعد

وہی میلے وہی پنگھٹ وہی جھولے وہی گیت
گاؤں میں پر کوئی تجھ سا نہ ملا تیرے بعد

اندھی راتوں کی سیاہی مرا مقدور ہوئی
کوئی تارا مرے آنگن نہ گرا تیرے بعد

دے دیا اپنے دل و جان کا اک اک قطرہ
اور کیا چاہتی ہے تیری صدا تیرے بعد

جسم میرا تھا مگر روح کا مالک تھا اور
کیسی عیاری کا یہ راز کھلا تیرے بعد

حد امکان تلک کرنیں وفا کی بکھریں
جسم میرا کئی زخموں سے سجا تیرے بعد

تو ہی غالب نہیں اک جور فلک کا مارا
میرے گھر آیا ہے طوفان بلا تیرے بعد

کسی خوش فہمی میں رہتا ہے تو بدنام نظرؔ
کون رکھے گا تجھے یاد بھلا تیرے بعد

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم