MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

شعورِ فکر ہونا یا کہ ادراکِ سخن ہونا

غزل شعورِ فکر ہونا یا کہ ادراکِ سخن ہونا عطائے خاص قدرت ہے کسی کا اہل فن ہونا مقدر بن گئیں تاریکیاں شامِ غریباں کی قیامت تھا مرا رد کردۂ صبح وطن ہونا غبار کم نگاہی میں نظر کیا خاک آئے گا مرے خونِ گلو کا غازۂ حسنِ چمن ہونا جہاں بارش ہو آنسو کی […]

شعورِ فکر ہونا یا کہ ادراکِ سخن ہونا Read More »

پانی کہیں نہ سایہ کسی رہگزر میں تھا

غزل پانی کہیں نہ سایہ کسی رہگزر میں تھا سر پر کڑی تھی دھوپ مسافر سفر میں تھا ہم نے بھی یہ سنا تھا شب غم گزر گئی لیکن لہو کا رنگ نمود سحر میں تھا مانا کہ اک سراب تھی رنگینئ حیات کچھ لطف زندگی بھی فریب نظر میں تھا کچھ ناتمام خواہشیں اور

پانی کہیں نہ سایہ کسی رہگزر میں تھا Read More »

یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا

غزل یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا بھری برسات میں جلتا گلستاں کون دیکھے گا بچا لینا تو ممکن ہے بھنور سے اپنی کشتی کو جو پوشیدہ ہو ساحل میں وہ طوفاں کون دیکھے گا سر محفل تو پروانوں کو جلتا سب نے دیکھا ہے ترا سوز دروں اے شمع گریاں کون دیکھے

یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا Read More »

وجہ شہرت تیری آشفتہ سری میری ہے

غزل وجہ شہرت تیری آشفتہ سری میری ہے شہر تیرا ہی سہی در بدری میری ہے چن لیا لاکھ خداؤں میں پرستش کے لئے حسن تیرا ہی سہی دیدہ وری میری ہے ہے خبر موسم سفاک کی ہم کو لیکن بارش سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے ہو کے آزاد بھی میں قید قفس

وجہ شہرت تیری آشفتہ سری میری ہے Read More »

مری تلاش کا آخر صلہ کہیں تو ملے

غزل مری تلاش کا آخر صلہ کہیں تو ملے تمہارے نقش قدم کا پتا کہیں تو ملے ترس رہی ہیں امید بہار میں آنکھیں شجر کی گود میں پتا ہرا کہیں تو ملے نہ جانیں کب سے ہوں آوارہ تپتے صحرا میں ہوا کہیں سے بھی آئے گھٹا کہیں تو ملے اسی تلاش میں جاری

مری تلاش کا آخر صلہ کہیں تو ملے Read More »

ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیا

غزل ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیا لگی جو ٹھیس تو شیشے پہ بال آ ہی گیا نہیں جو واقف تہذیب مے کدہ واعظ زباں پہ ذکر حرام و حلال آ ہی گیا پکڑ لیا مرے ہاتھوں کو اے خودی تو نے ترا خیال جو وقت سوال آ ہی گیا ہر

ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیا Read More »

بے زر کی بے زری کا مزا ہم سے پوچھئے

غزل بے زر کی بے زری کا مزا ہم سے پوچھئے کیسا ہے مفلسی کا مزا ہم سے پوچھئے کانٹے تو پھر بھی کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا پھولوں سے دوستی کا مزا ہم سے پوچھئے پہچان کر بھی وہ ہمیں پہچانتے نہیں دانستہ بے رخی کا مزا ہم سے پوچھئے جو گھر

بے زر کی بے زری کا مزا ہم سے پوچھئے Read More »

کیا ہوا جو دشمنوں کے درمیاں خنجر چلے

غزل کیا ہوا جو دشمنوں کے درمیاں خنجر چلے دوستوں میں بھی تو اکثر طنز کے پتھر چلے لو فرشتوں کے پروں کی خوشبوئیں لہرا گئیں دن ڈھلا اسکول سے بچے اب اپنے گھر چلے سائباں در سائباں تھا چیختی روحوں کا شور ایک گھر گھبرا کے گھر سے میرے بام و در چلے بند

کیا ہوا جو دشمنوں کے درمیاں خنجر چلے Read More »

مری نگاہ کی کرنوں سے جب نہا جائے

غزل مری نگاہ کی کرنوں سے جب نہا جائے تم اس کو دیکھو تو بس دیکھتے رہا جائے کسی کے غم کے سہارے ہی جی لیا جائے جو یہ بھی پاس نہ ہووے تو کیا کیا جائے تمہارے ہونٹوں پہ تالے مری زبان پہ مہر چلو لتا کا کوئی گیت ہی سنا جائے یہ پیڑ

مری نگاہ کی کرنوں سے جب نہا جائے Read More »

زندگی اک زہر تھی اس زہر کو پینا پڑا

غزل زندگی اک زہر تھی اس زہر کو پینا پڑا مسکرا کر دوستوں کے درمیاں جینا پڑا اس کو بھی مجھ سے شکایت تھی نہ تھا مجھ کو گلہ جانے کیسے دو دلوں کے درمیاں کینہ پڑا تھی عدالت میں گواہی ہاتھ تھے قرآن پر جھوٹ کے کانٹوں سے لیکن سچ کا منہ سینا پڑا

زندگی اک زہر تھی اس زہر کو پینا پڑا Read More »