MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو جھک کے ملتے تھے جلسوں میں مہرباں کی طرح

غزل

جو جھک کے ملتے تھے جلسوں میں مہرباں کی طرح
ہوئے ہیں سر پہ مسلط وہ آسماں کی طرح

مجھے جو کھولو تو ساحل قریب کر دوں گا
سمندروں میں میں رہتا ہوں بادباں کی طرح

تمہارے شہر کے جبری نظام میں کچھ لوگ
کبھی ہنسے بھی تو آواز تھی فغاں کی طرح

ہے تیز دھوپ سفر لمبا پر تمہاری یاد
ہے ایک سایہ مرے سر پہ سائباں کی طرح

نہ کوئی پتہ ہرا ہے نہ کوئی پھول کھلا
بہار بھی مرے گھر آئی ہے خزاں کی طرح

نہ صاف ذہن نہ چہرے کے خال و خط روشن
فضاؤں میں ہے ہر اک شے دھواں دھواں کی طرح

جہاں بھی جاؤں میں وہ دشت ہو کہ دریا ہو
دعائیں ماں کی چلیں ساتھ پاسباں کی طرح

نظرؔ کے نام کا اک شخص کچھ جنونی سا
اکیلا دشت میں چلتا ہے کارواں کی طرح

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم