مہکتے پھولوں کی وادی میں کوئی مل نہ بن جائے
غزل مہکتے پھولوں کی وادی میں کوئی مل نہ بن جائے دھوئیں کے زہر سے، بستی، مریضٍ سل، نہ بن جائے لبوں میں قید رکھو، لفظ کے اندھے شکاری کو کہیں مفرور ہو کے، سوزٍ زخمٍ دل نہ بن جائے ہر اک پل چینج ہوتے دور میں یہ خوف ھے مجھ کو مرا سایہ بدن […]
مہکتے پھولوں کی وادی میں کوئی مل نہ بن جائے Read More »