MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مہکتے پھولوں کی وادی میں کوئی مل نہ بن جائے

غزل مہکتے پھولوں کی وادی میں کوئی مل نہ بن جائے دھوئیں کے زہر سے، بستی، مریضٍ سل، نہ بن جائے لبوں میں قید رکھو، لفظ کے اندھے شکاری کو کہیں مفرور ہو کے، سوزٍ زخمٍ دل نہ بن جائے ہر اک پل چینج ہوتے دور میں یہ خوف ھے مجھ کو مرا سایہ بدن […]

مہکتے پھولوں کی وادی میں کوئی مل نہ بن جائے Read More »

پوششٍ فکر نہیں، توشکٍ ادراک نہیں

غزل پوششٍ فکر نہیں، توشکٍ ادراک نہیں رات میں خواب سے بہتر کوئی پوشاک نہیں ایک ٹھہرے ہوئے ساگر میں ترازو ہو کر ہر پرندے کو یہ حیرت کہیں افلاک نہیں جیسی اوسان خطائی سے ھے یاں ترکٍ مکاں یہ زمیں اتنی بھی کم مایہٍ خوراک نہیں پھول بھی تتلی کی مانند ھے اک شخصیت

پوششٍ فکر نہیں، توشکٍ ادراک نہیں Read More »

مجھے کوئی ایسی غزل سنا کہ میں رو پڑوں

غزل مجھے کوئی ایسی غزل سنا کہ میں رو پڑوں ذرا جے جے ونتی کے سر لگا کہ میں رو پڑوں مرے ضبط تجھ کو مری طرف سے یہ اذن ہے مرا آج اتنا تو دل دکھا کہ میں رو پڑوں یہ جو خاک اوڑھ کے سو رہی ہے مری ہنسی یوں بلک بلک کے

مجھے کوئی ایسی غزل سنا کہ میں رو پڑوں Read More »

گھنگرو پہ بات کر نہ تو پائل پہ بات کر

غزل گھنگرو پہ بات کر نہ تو پائل پہ بات کر مجھ سے طوائفوں کے مسائل پہ بات کر فٹ پاتھ پر پڑا ہوا دیوان میر دیکھ ردی میں بکنے والے رسائل پہ بات کر اس میں بھی اجر ہے نہاں نفلی نماز کا مسجد میں بھیک مانگتے سائل پہ بات کر میرا دعا سے

گھنگرو پہ بات کر نہ تو پائل پہ بات کر Read More »

انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیں

غزل انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیں سو ان غلاموں میں میرا غلام کوئی نہیں جو ننگ شعر ہیں ننگ ادب ہیں رسوا ہیں خدا کا شکر مرا ان میں نام کوئی نہیں ہر ایک شعر خدا کی عطا سے ہوتا ہے اے میرے دوست یہاں حرف خام کوئی نہیں کہیں سے

انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیں Read More »

نجانے کس کی دعا ہے کہ کام چل رہا ہے

غزل نجانے کس کی دعا ہے کہ کام چل رہا ہے کوئی نظام نہیں اور نظام چل رہا ہے رہ وفا میں بچھے ہیں جفا کے انگارے جو چل رہا ہے وہ دو چار گام چل رہا ہے کئی ادیبوں کے نامرد ہو چکے ہیں قلم کئی برس سے فقط ان کا نام چل رہا

نجانے کس کی دعا ہے کہ کام چل رہا ہے Read More »

کوئی ہیجان اس کو کہتا ہے کوئی وجدان اس کو کہتا ہے

غزل کوئی ہیجان اس کو کہتا ہے کوئی وجدان اس کو کہتا ہے کوئی کہتا ہے شاعری ہے عبث کوئی امکان اس کو کہتا ہے اپنی اپنی پسند ہے سب کی اپنا اپنا ہے سب کا ذوق سخن واہ کہتا ہے کوئی سن کے غزل کوئی ہذیان اس کو کہتا ہے حاصل عمر ایک شاعر

کوئی ہیجان اس کو کہتا ہے کوئی وجدان اس کو کہتا ہے Read More »

نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہے

غزل نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہے یہ مسئلہ ہے وہی جو کربل کے سب شہیدوں کا مسئلہ ہے یہ قم کی مسجد کا سرخ جھنڈا ہے دس محرم کا ہی تسلسل اسی لئے تو یہ دنیا بھر کے سبھی یزیدوں کا مسئلہ ہے جو چودہ صدیوں سے ہر

نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہے Read More »

تمہارے پہلو میں زندگی نے جو سانس لی تھی وہ مر چکی ہے

غزل تمہارے پہلو میں زندگی نے جو سانس لی تھی وہ مر چکی ہے جو دشت میں میری ہم سفر تھی وہ ریت آنکھوں میں بھر چکی ہے عجب رویہ ہے جنگلوں کا عجب روش ہے شکاریوں کی ٹھمک ٹھمک کر ہوا جو چلتی تھی بن میں اب وہ بھی ڈر چکی ہے وہ کس

تمہارے پہلو میں زندگی نے جو سانس لی تھی وہ مر چکی ہے Read More »

میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہو

غزل میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہو خدا کے نام کی کعبے میں بھی اذان نہ ہو اگر یقیں ہو کہ اب بے نشاں نہیں ہونا کسی جبیں پہ کسی فرض کا نشان نہ ہو برائے آدمی قائم ہے دفتر افلاک جو وہ نہ ہو تو ستاروں کا خاندان نہ ہو ہے آسمان

میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہو Read More »