MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بن دیکھے بھی رہ سکتا ہوں

غزل

بن دیکھے بھی رہ سکتا ہوں
کیا یہ تم سے کہہ سکتا ہوں

رنگوں کو بانہوں میں لے کر
خوشبوؤں میں بہہ سکتا ہوں

خود کو خود کی ڈھال بنا کر
خود کے اندر ڈھہہ سکتا ہوں

گھر کی دیواریں نہ ہوں تو
خود کے اندر رہ سکتا ہوں

من بچے کو ٹافی دے کر
بوڑھے پن کو سہہ سکتا ہوں

زاہد حسین جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم