MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

صبح کے بارہ بجے رات کا مطلب سمجھے

غزل صبح کے بارہ بجے رات کا مطلب سمجھے کوئی اے کاش مری بات کا مطلب سمجھے میرے بستر پہ پڑی ہیں مری بھیگی آنکھیں اس سے کہہ دو کہ وہ برسات کا مطلب سمجھے ایک شاعر ہوں یہی نام و نسب ہے میرا پر یہاں کون مری ذات کا مطلب سمجھے دیر سے ہم […]

صبح کے بارہ بجے رات کا مطلب سمجھے Read More »

مری غزل سے غزل کی محفل سجانے والا کوئی نہ ہو گا

غزل مری غزل سے غزل کی محفل سجانے والا کوئی نہ ہو گا یہ بات طے ہے کہ میری برسی منانے والا کوئی نہ ہو گا ورق ورق آنسوؤں کا بستر بچھانے والا کوئی نہ ہو گا غموں کو غزلوں کے پالنے میں سلانے والا کوئی نہ ہو گا میں دل بریدہ سا ایک شاعر

مری غزل سے غزل کی محفل سجانے والا کوئی نہ ہو گا Read More »

جو میری غزلوں کی تنزیل کا معاملہ ہے

غزل جو میری غزلوں کی تنزیل کا معاملہ ہے وہ میرا اور مرے جبریل کا معاملہ ہے بنا رہا ہوں میں کاغذ پہ لفظ لفظ کھنڈر دل تباہ کی تمثیل کا معاملہ ہے میں کیا بتاؤں مرے اشک چھپ رہے ہیں کہاں یہ میری آنکھ کی زنبیل کا معاملہ ہے چراغ طور ترا تذکرہ عبث

جو میری غزلوں کی تنزیل کا معاملہ ہے Read More »

سلونی شام کے آنگن میں جب دو وقت ملتے ہیں

غزل سلونی شام کے آنگن میں جب دو وقت ملتے ہیں بھٹکتے ہم سے ان سایوں میں کچھ آدھے ادھورے ہیں سمندر ہے ہمارے سامنے مغرور و خود سر سا ہمیں اک پل بنا کر فاصلے سب پار کرنے ہیں اندھیروں سے اجالوں تک اجالوں سے اندھیروں تک سدا گردش ہی گردش ہے کہاں جانے

سلونی شام کے آنگن میں جب دو وقت ملتے ہیں Read More »

آیا کبھی خیال تو دل سے لپٹ گیا

غزل آیا کبھی خیال تو دل سے لپٹ گیا کیسے سما کے پھر کوئی جیون سے ہٹ گیا پروا چلی تھی گانٹھ کو آنچل سے باندھنے دامن گھٹا کا ہاتھ میں آتے ہی پھٹ گیا بیٹھے ہیں شام اوڑھ کے تنہائیوں میں ہم اک ہنس اپنی ڈار سے جیسے ہو کٹ گیا بدلا نگر نے

آیا کبھی خیال تو دل سے لپٹ گیا Read More »

نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا

غزل نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا وہاں پہنچے تو اپنے آپ کو بھی بے نظر دیکھا یہ دھوکا تھا نظر کا یا فرشتہ سبز چادر میں کہیں صحرا میں لہراتا ہوا اس نے شجر دیکھا کہیں پہ جسم اور پہچان دونوں راہ میں چھوڑے خود اپنے آپ کو ہم نے نہ

نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا Read More »

آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے

غزل آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے تم حقیقت کے لیے وہم و گماں ڈھونڈو گے کون سی آس میں یہ سارا جہاں ڈھونڈو گے ایک آوارہ سی خوشبو کو کہاں ڈھونڈو گے ساتھ کچھ روز کا ہے راستہ چلتے لوگو ہم چلے جائیں گے قدموں کے نشاں ڈھونڈو گے تیر ترکش

آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے Read More »

رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں

غزل رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں دیکھتے ہیں سب تماشا کیا کہیں سخت پھندا ہے ہزاروں سال کا کس نے بن گانٹھوں کے باندھا کیا کہیں جگنوؤں کا جھنڈ من میں آ بسا ہے اجالا یا اندھیرا کیا کہیں لینے دینے سے ہوئے کتنے وہ خوش کھا گئے دونوں ہی دھوکا کیا کہیں

رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں Read More »

ہر پرندے کی بات سنتا ہے

غزل ہر پرندے کی بات سنتا ہے بے زباں پیڑ سب سے اچھا ہے جس قدر ہم نے بھید سمجھا ہے کوئی منزل نہ کوئی رستہ ہے ان اندھیروں کو کس لئے کوسیں روشنی بن کے پھول کھلتا ہے چلنے والا نکل گیا آگے قافلہ راستے میں ٹھہرا ہے جس کی خاطر ہیں جاگتے رہے

ہر پرندے کی بات سنتا ہے Read More »

لوگ جن کو آج تک بار گراں سمجھا کئے

غزل لوگ جن کو آج تک بار گراں سمجھا کئے ہم انہیں لمحوں کو عمر جاوداں سمجھا کئے موت کو ہم زندگی کی ترجماں سمجھا کئے قطرۂ دریا کو بحر بیکراں سمجھا کئے گو حقیقت ہی حقیقت تھی سراپا ہم مگر زندگی کو داستاں ہی داستاں سمجھا کئے حسرت سیر گلستاں خواب بن کر رہ

لوگ جن کو آج تک بار گراں سمجھا کئے Read More »