MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مری غزل سے غزل کی محفل سجانے والا کوئی نہ ہو گا

غزل

مری غزل سے غزل کی محفل سجانے والا کوئی نہ ہو گا
یہ بات طے ہے کہ میری برسی منانے والا کوئی نہ ہو گا

ورق ورق آنسوؤں کا بستر بچھانے والا کوئی نہ ہو گا
غموں کو غزلوں کے پالنے میں سلانے والا کوئی نہ ہو گا

میں دل بریدہ سا ایک شاعر ہوں میرا دل بند ہو گیا تو
قسم قلم کی دکھوں کا ماتم منانے والا کوئی نہ ہو گا

کبھی جو مجھ سا حقیقتوں کا پیامبر اٹھ گیا جہاں سے
غزل کے پردے پہ سچ کے منظر دکھانے والا کوئی نہ ہوگا

جو اس صدی میں مری غزل کو ملی نہ توقیر میرؔ جیسی
تو اگلی صدیوں میں غزلیں وزلیں سنانے والا کوئی نہ ہوگا

میں روٹھ جاؤں گا بزم ہستی کی رونقوں سے تو دیکھ لینا
گلے سے اپنے لگا کے مجھ کو منانے والا کوئی نہ ہوگا

سفید چادر کو اوڑھ کر ایک رات سو جاؤں گا میں ایسے
کہ صبح دم اس جہاں میں مجھ کو جگانے والا کوئی نہ ہوگا

میں مثل بو زر اکیلا اک دشت بے کسی میں مروں گا اور پھر
چہار جانب مرا جنازہ اٹھانے والا کوئی نہ ہوگا

مجھے یقیں ہے میں بعد مرنے کے کرگسوں کا شکم بھروں گا
زمیں کی گودی میں میرا لاشہ چھپانے والا کوئی نہ ہو گا

میں جانتا ہوں بجز خدا اس جہاں میں میرا کوئی نہیں ہے
میں جانتا ہوں کہ میری تربت بنانے والا کوئی نہ ہوگا

تمام رشتے تمام ناطے میں زندگی میں ہی کھو چکا ہوں
سو میری میت پہ چار آنسو بہانے والا کوئی نہ ہوگا

خدا نے جنت کے آٹھ درجے کئے ہیں تخلیق پر یہ سچ ہے
کسی میں بھی خلقت خدا کو ستانے والا کوئی نہ ہوگا

تمہی بتاؤ کہاں سے لاؤ گے اپنے مطبخ میں ماں سی برکت
جب آیتیں پڑھ کے گھر میں چولہا جلانے والا کوئی نہ ہوگا

وہ ایسا بد بخت حکمراں ہے جسے محافظ یہ کہہ رہے ہیں
ہمیں بچاؤ وگرنہ تم کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا

یہ پانیوں کے وبال ویران کر کے رکھ دیں گے ساحلوں کو
اداس دریا میں کشتیوں کو چلانے والا کوئی نہ ہوگا

جو برکھا رت نے اسی طرح سے بہا دیا ساری بستیوں کو
تو پیاسی دھرتی پہ میگھ ملہار گانے والا کوئی نہ ہو گا

خدائے برتر مرے کسانوں کو غرق ہونے سے تو بچا لے
وگرنہ اک دن سنہری گندم اگانے والا کوئی نہ ہوگا

سمے بہت ہے قریب واصفؔ میں ایسے اک دیس جا رہا ہوں
جہاں پہ اپنا پرایا مجھ کو رلانے والا کوئی نہ ہوگا

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم