MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

منزل دکھائی دے نہ کوئی راستہ مجھے

غزل منزل دکھائی دے نہ کوئی راستہ مجھے لے آئے ہیں کہاں پہ مرے رہنما مجھے اے وقت پھر سے دینا ذرا آئنہ مجھے حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے شکوہ رہا کسی سے نہ کوئی گلہ مجھے تم مل گئے تو سارا جہاں مل گیا مجھے میں سو چلا تھا اپنے تکبر […]

منزل دکھائی دے نہ کوئی راستہ مجھے Read More »

آنکھوں سے ہو کے دل میں وہ صورت اتر گئی

غزل آنکھوں سے ہو کے دل میں وہ صورت اتر گئی ممکن نہ تھی جو بات وہی بات کر گئی کیا جانے کیا وہ غم تھا جو ہر دل کو چھو گیا جو آنکھ بھی گئی تری محفل سے تر گئی میرا ہی آشیاں تھا گریں جس پہ بجلیاں میری ہی خاک تھی جو ہوا

آنکھوں سے ہو کے دل میں وہ صورت اتر گئی Read More »

بشر کو جس سے میسر کبھی خوشی نہ ہوئی

غزل بشر کو جس سے میسر کبھی خوشی نہ ہوئی وہ اک مذاق ہوا کوئی زندگی نہ ہوئی نظر کسی کی اجالوں سے بھر گئی دامن چراغ ہم نے جلائے تو روشنی نہ ہوئی خدا کی آڑ میں کچھ لوگ پوجتے ہیں صنم اسے فریب کہو یہ تو بندگی نہ ہوئی تمہاری یاد کے مرہم

بشر کو جس سے میسر کبھی خوشی نہ ہوئی Read More »

ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

غزل ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد دن نکلتا ہے اندھیری رات ڈھل جانے کے بعد ہر کوئی دنیا میں اپنے کو سمجھتا ہے خدا ایک دیوانہ پڑا ہے ایک دیوانے کے بعد آپ آنکھوں سے پلائیں اور پھر دیکھیں ذرا ایک پیمانہ بھرے گا ایک پیمانے کے بعد کون کہتا ہے

ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد Read More »

کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہے

غزل کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہے دل کو جہاں سکوں ملے وہ تو مقام اور ہے کہتی ہے روح جسم سے شاید تجھے خبر نہیں میرا مقام تو نہیں میرا مقام اور ہے سہمی ہوئی یہ خامشی ہونٹوں کی تیرے کپکپی کہتی ہے صاف نامہ بر کچھ تو پیام اور ہے

کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہے Read More »

یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغ

غزل یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغ کہ رہ نہ جائیں کہیں بجھ کے یہ الم کے چراغ ہر ایک سمت اندھیرا ہے ہو کا عالم ہے جلاؤ خوب جلاؤ ندیم جم کے چراغ جہاں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں اب خوشی کی کرن کہا تھا کس نے جلاؤ حضور غم کے چراغ وفا

یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغ Read More »

ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرح

غزل ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرح ہم پریشاں ہیں تری زلف پریشاں کی طرح ہر گلی آئی نظر کوچۂ جاناں کی طرح ہم کو دنیا یہ لگی شہر نگاراں کی طرح کم نہ ہوگی یہ خلش دل کی کسی بھی صورت دل میں سو غم ہیں مکیں خار مغیلاں کی

ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرح Read More »

دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پر

غزل دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پر اب وہ کیا الزام دھرے گی ہم جیسے دیوانوں پر دل کی کلیاں افسردہ سی ہر چہرہ مایوس مگر باغ مہکتے دیکھ رہا ہوں گھاٹوں پر شمشانوں پر پتھر دل ہیں لوگ یہاں کے یہ پتھر کیا پگھلیں گے کس نے بارش ہوتے دیکھی تپتے

دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پر Read More »

نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھا

غزل نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھا اپنے سوائے کچھ بھی مگر سوجھتا نہ تھا سب کھڑکیاں تھیں بند کوئی در کھلا نہ تھا جاتے کہاں کہ خود سے پرے راستہ نہ تھا کیا جانے کس خیال سے چپ ہو کے رہ گیا ایسا نہیں کہ غم مجھے پہچانتا نہ تھا ہونٹوں

نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھا Read More »

انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیں

غزل انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیں وہ کون سا گلشن ہے جہاں خار نہیں ہیں جو لوگ محبت میں گرفتار نہیں ہیں وہ لوگ حقیقت کے پرستار نہیں ہیں دنیا میں میسر ہے ابھی جنس محبت صد حیف کہ پہلے سے خریدار نہیں ہیں ٹوٹے ہیں نہ ٹوٹیں گے کبھی بوجھ سے

انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیں Read More »