MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

غزل سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں کوچ کر جائیں کب کچھ بھروسا نہیں ہیں فصیلوں سے الجھے ہوئے سرپھرے دور تک کوئی شہر تمنا نہیں شام سے ہی گھروں میں پڑیں کنڈیاں چاند اس شہر میں کیوں نکلتا نہیں آگ لگنے کی خبریں تو پہنچیں مگر کوئی حیرت نہیں کوئی چونکا نہیں چھین […]

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں Read More »

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا

غزل ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا چلیں گے ساتھ تو دنیا کا سامنا ہوگا وہ ایک شخص جو پتھر اٹھا کے دوڑا تھا ضرور خواب کی کڑیاں ملا رہا ہوگا ہمارے بعد اک ایسا بھی دور آئے گا وہ اجنبی ہی رہے گا جو تیسرا ہوگا خزاں پسند ہمیں ڈھونڈنے کو

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا Read More »

آنکھوں کے سامنے کوئی منظر نیا نہ تھا

غزل آنکھوں کے سامنے کوئی منظر نیا نہ تھا بس وہ ذرا سا فاصلہ باقی رہا نہ تھا اب اس سفر کا سلسلہ شاید ہی ختم ہو سب اپنی اپنی راہ لیں ہم نے کہا نہ تھا دروازے آج بند سمجھئے سلوک کے یہ چلنے والا دور تلک سلسلہ نہ تھا اونچی اڑان کے لیے

آنکھوں کے سامنے کوئی منظر نیا نہ تھا Read More »

گھروندے خوابوں کے سورج کے ساتھ رکھ لیتے

غزل گھروندے خوابوں کے سورج کے ساتھ رکھ لیتے پروں میں دھوپ کے اک کالی رات رکھ لیتے ہمیں خبر تھی زباں کھولتے ہی کیا ہوگا کہاں کہاں مگر آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیتے تمام جنگوں کا انجام میرے نام ہوا تم اپنے حصے میں کوئی تو مات رکھ لیتے کہا تھا تم سے کہ

گھروندے خوابوں کے سورج کے ساتھ رکھ لیتے Read More »

اقرا کو پھر سے واردِ غارِ حرائے دل

مناجات اقرا کو پھر سے واردِ غارِ حرائے دل پھر جبرئیلِ فکر کو اذنِ کلام دے خورشید کس طرح سے پلٹتا ہے پھر دکھا پھر گردشِ زمیں کو شعورِ قیام دے پھر حرفِ کن فکاں کے سیاق و سباق کھول پھر فکرِ نارسا کو سلونی کا جام دے مسجودِ کائنات میں ساجد ہوں نام کا

اقرا کو پھر سے واردِ غارِ حرائے دل Read More »

اے دامِ حسنِ یار بری ہو گیا ہوں میں

غزل اے دامِ حسنِ یار بری ہو گیا ہوں میں ٹوٹا ہے دل تو اور قوی ہو گیا ہوں میں یکجا کیا ہے حرف شناسانِ شہر کو اور وہ بھی اس طرح سے نفی ہو گیا ہوں میں حالانکہ بک گیا ہوں سرِ راہِ دوستاں دشمن یہ کہہ رہا ہے سخی ہو گیا ہوں میں

اے دامِ حسنِ یار بری ہو گیا ہوں میں Read More »

از روئے اختلافِ نظر ایک ہو گئے

غزل از روئے اختلافِ نظر ایک ہو گئے سب بے ہنر بنامِ ہنر ایک ہو گئے حد ہوگئی کہ ظلمتِ شب ہے عزیزِ دید حد ہو گئی کہ شام و سحر ایک ہو گئے اب حسنِ اتفاق کی قیمت چکائے دل اب حامیانِ فتنہ و شر ایک ہو گئے بس ہم ہی ایک ہو نہ

از روئے اختلافِ نظر ایک ہو گئے Read More »

ہیں آسمان و زمیں اس لیے کہ حد میں رہے

غزل ہیں آسمان و زمیں اس لیے کہ حد میں رہے سو آدمی پہ بھی لازم ہے اپنے قد میں رہے ہتھیلیاں بھی جھلسنے لگیں بچاتے ہوئے چراغ دیکھیے کب تک ہوا کی زد میں رہے وہ جس کو دیکھا نہیں اور نفس نفس سوچا اسیر عمر بھر اس کے ہی خال و خد میں

ہیں آسمان و زمیں اس لیے کہ حد میں رہے Read More »

پر کو کیوں تول رہا ہے نئے انداز کے ساتھ

غزل پر کو کیوں تول رہا ہے نئے انداز کے ساتھ کب قفس لے کے اڑا ہے کوئی پرواز کے ساتھ صرف لہجہ ہی ترازو نہیں ہوتا دل میں حرف و معنیٰ بھی سفر کرتے ہیں آواز کے ساتھ منزلِ شوق پہ حق بھی اسی انسان کا ہے سامنے جس کے ہو انجام بھی آغاز

پر کو کیوں تول رہا ہے نئے انداز کے ساتھ Read More »