MOJ E SUKHAN

آنکھوں کے سامنے کوئی منظر نیا نہ تھا

غزل

آنکھوں کے سامنے کوئی منظر نیا نہ تھا
بس وہ ذرا سا فاصلہ باقی رہا نہ تھا

اب اس سفر کا سلسلہ شاید ہی ختم ہو
سب اپنی اپنی راہ لیں ہم نے کہا نہ تھا

دروازے آج بند سمجھئے سلوک کے
یہ چلنے والا دور تلک سلسلہ نہ تھا

اونچی اڑان کے لیے پر تولتے تھے ہم
اونچائیوں پہ سانس گھٹے گی پتا نہ تھا

کوشش ہزار کرتی رہیں تیز آندھیاں
لیکن وہ ایک پتہ ابھی تک ہلا نہ تھا

سب ہی شکارگاہ میں تھے خیمہ زن مگر
کوئی شکار کرنے کو اب تک اٹھا نہ تھا

اچھا ہوا کہ گوشہ نشینی کی اختیار
آشفتہؔ اور اس کے سوا راستہ نہ تھا

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم