جب بھی دیارِ جاں سے ہوئے ہیں ہوا چراغ
غزل جب بھی دیارِ جاں سے ہوئے ہیں ہوا چراغ خود تیرگی پکار اٹھی یا خدا چراغ رکھتے ہیں لو بھی دستِ دعا کی طرح بلند دیتے نہیں کسی کو کبھی بد دعا چراغ وہ کیا چراغ تھا جو لحد میں اتر گیا وہ کیا چراغ ہے جو جلا کر گیا چراغ اِک میں ہی […]
جب بھی دیارِ جاں سے ہوئے ہیں ہوا چراغ Read More »