MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب بھی دیارِ جاں سے ہوئے ہیں ہوا چراغ

غزل جب بھی دیارِ جاں سے ہوئے ہیں ہوا چراغ خود تیرگی پکار اٹھی یا خدا چراغ رکھتے ہیں لو بھی دستِ دعا کی طرح بلند دیتے نہیں کسی کو کبھی بد دعا چراغ وہ کیا چراغ تھا جو لحد میں اتر گیا وہ کیا چراغ ہے جو جلا کر گیا چراغ اِک میں ہی […]

جب بھی دیارِ جاں سے ہوئے ہیں ہوا چراغ Read More »

گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے

غزل گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے اک عمر مہر و ماہ نے دیکھا نہیں مجھے اچھا ہوا کہ خاک نشینوں کے رو بہ رو اس شہر کج کلاہ نے دیکھا نہیں مجھے میں دیکھتا تھا رنگ بدلتی ہوئی نگاہ بدلی ہوئی نگاہ نے دیکھا نہیں مجھے میری صدا وہاں پہ تجھے کیسے

گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے Read More »

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا

غزل میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا جو میں گیا تو پھر کوئی تنہا نہیں گیا میں چاہتا تھا اس کی نگاہوں سے کھیلنا لیکن ذرا سی دیر بھی کھیلا نہیں گیا ممکن نہیں تھا حسن و نظر کا موازنہ مجھ سے تو اس کو ٹھیک سے دیکھا نہیں گیا تحویل میں کسی

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا Read More »

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے

غزل دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے اس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرح وہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگر اس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے میں نے بنا دیا

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے Read More »

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا

غزل غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا پھر اس کے بعد محبت کا اعتراف کیا جو وہ نہیں تھا تو میں متفق تھا لوگوں سے وہ میرے سامنے آیا تو اختلاف کیا ہر ایک جرم کی پاتا رہا سزا لیکن ہر ایک جرم زمانے کا میں نے معاف کیا وہ شب گزارنے آئے

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا Read More »

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں

غزل یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں جیسے کوئی نہیں تھا خالی کمرے میں ہر پل میرا رستہ دیکھا کرتا ہے جانے کس کا سایہ خالی کمرے میں کھڑکی کے رستے سے لایا کرتا ہوں میں باہر کی دنیا خالی کمرے میں ہر موسم میں آتے جاتے رہتے ہیں لوگ ہوا اور دریا خالی

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں Read More »

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا

غزل پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا کوئی مرے چمن میں بہت دیر تک رہا آیا تھا میرے پاس وہ کچھ دیر کے لیے سورج مگر گہن میں بہت دیر تک رہا میں روکتا رہا اسے چالاکیوں کے ساتھ وہ اپنے بھولے پن میں بہت دیر تک رہا جو شہ ملی تو دل

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا Read More »

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا

غزل کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا اثر ہے یہ تری آنکھوں کی بے زبانی کا کسی نے میری محبت کو کر لیا محفوظ خیال آیا کسی کو تو پاسبانی کا برائے نام سا پل بھی نہیں بنا مجھ سے کہ کچھ علاج نہیں تھا تری روانی کا ہمارے دل کا المناک دور ہے

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا Read More »

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں

غزل اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں میں اپنی خواہشوں سے بچھڑ کر بھی خوش نہیں اک سر خوشی محیط ہے چاروں طرف مگر بستی میں کوئی شخص کوئی گھر بھی خوش نہیں کتنے ہیں لوگ خود کو جو کھو کر اداس ہیں اور کتنے اپنے آپ کو پا کر بھی

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں Read More »

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے

غزل ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے یہ کہانی مگر ادھوری ہے ہجر تو خیر اس کا لازم تھا وصل بھی اب بہت ضروری ہے میری آنکھوں کے جرم میں شامل ان نگاہوں کی بے قصوری ہے میرے الفاظ ہو رہے ہیں خرچ قوم کی مفت میں مشہوری ہے یوں مرا تاج و تخت چھین

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے Read More »