MOJ E SUKHAN

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا

غزل

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا
چلیں گے ساتھ تو دنیا کا سامنا ہوگا

وہ ایک شخص جو پتھر اٹھا کے دوڑا تھا
ضرور خواب کی کڑیاں ملا رہا ہوگا

ہمارے بعد اک ایسا بھی دور آئے گا
وہ اجنبی ہی رہے گا جو تیسرا ہوگا

خزاں پسند ہمیں ڈھونڈنے کو نکلے ہیں
ہمارے درد کا قصہ کہیں سنا ہوگا

جو ہر قدم پہ مرے ساتھ ساتھ رہتا تھا
ضرور کوئی نہ کوئی تو واسطا ہوگا

نہیں ہے خوف کوئی رہبروں سے آشفتہؔ
ہمارے ساتھ شکستوں کا قافلا ہوگا

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم