MOJ E SUKHAN

ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو

غزل

ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو
موبائل بھی گرم ہے ٹھنڈا ہونے دو

آج تو پیاسے صبر کے گھر میں یکجا ہیں
دریاؤں کو آج اکیلا رونے دو

سوچ لو دل کو باہر چھوڑ کے آئے تو
ہم دو میں سے رہ جائیں گے پونے دو

آندھی نے جو بھر دی ہے ان آنکھوں میں
جانے کس کی گرد ہے آنکھیں دھونے دو

اس صوفہ پر لیٹ کے میں سو جاؤں گا
ان کے خواب کو بستر پر ہی سونے دو

احتشام الحق صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم