MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کو نغموں میں سمیٹوں تو بکا جانے ہے

غزل

اس کو نغموں میں سمیٹوں تو بکا جانے ہے
گریۂ شب کو جو نغمے کی صدا جانے ہے

میں تری آنکھوں میں اپنے لیے کیا کیا ڈھونڈوں
تو مرے درد کو کچھ مجھ سے سوا جانے ہے

اس کو رہنے دو مرے زخموں کا مرہم بن کر
خون دل کو جو مرے رنگ حنا جانے ہے

میری محرومیٔ فرقت سے اسے کیا لینا
وہ تو آہوں کو بھی مانند صبا جانے ہے

ایک ہی دن میں ترے شہر کی مسموم فضا
میرے پیرہن سادہ کو ریا جانے ہے

میں کبھی تیرے دریچے میں کھلا پھول بھی تھا
آج کیا ہوں ترے گلشن کی ہوا جانے ہے

مجھ سے کہتا ہے مرا شوخ کہ اقبال متینؔ
تم رہے رات کہاں یہ تو خدا جانے ہے

اقبال متین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم