MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوئی ان کے بعد نبی ہوا ؟نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ان کے بعد نبی ہوا ؟نہیں ان کے بعد کوئی نہیں کہ خدا نے خود بھی تو کہدیا ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں کوئی ایسی ذاتِ ہمہ صفت، کوئی ایسا نورِ ہمہ جِہت کوئی مصطفےٰ، کوئی مجتبےٰ ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں بجز ان […]

کوئی ان کے بعد نبی ہوا ؟نہیں ان کے بعد کوئی نہیں Read More »

کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

غزل کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی نہ دل نے دل کو ٹٹولا فضا ہی ایسی تھی زبان درد سے لیکر دہانِ زخم تلک کوئی بھی کھل کے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی سکوں کے در پئے آزار سب ہوئے لیکن جنوں سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی ہوا

کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی Read More »

وفا کے خوگر وفا کریں گے یہ طے ہو ا تھا

غزل وفا کے خوگر وفا کریں گے یہ طے ہو ا تھا وطن کی خاطر جیے مریں گے یہ طے ہو ا تھا بوقتِ ہجرت قدم اُٹھیں گے جو سوئے منزل تو بیچ رستے میں دَم نہ لیں گے یہ طے ہوا تھا چہار جانب بہار آئی ہوئی تھی لیکن بہار کو اعتبار دیں گے

وفا کے خوگر وفا کریں گے یہ طے ہو ا تھا Read More »

میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا

غزل میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا کبھی کائنات بھی کم پڑی کبھی جسم و جاں میں سمٹ گیا یہی حال ہے کئی سال سے نہ قرار دل نہ سکون جاں کبھی سانس غم کی الٹ گئی کبھی رشتہ درد سے کٹ گیا مری جیتی جاگتی فصل سے

میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا Read More »

ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں

غزل ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں ابھی چراغ سر کہکشاں جلے بھی نہیں جبین چرخ پہ گلگونۂ شفق مل کر ابھی تو شام کے سائے کہیں گئے بھی نہیں ابھی ابھی تو جمائی ہے میں نے بزم خیال ابھی افق بہ افق بام و در سجے بھی نہیں عروس شب نے ابھی

ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں Read More »

طارق نعیم کی شعری کلیات "آنکھ سے آسمان جاتا ہے”  ندیم ملک لاہور

طارق نعیم کی شعری کلیات "آنکھ سے آسمان جاتا ہے” ندیم ملک لاہور آج سے غالباََ چار برس قبل ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں پاکستان کے غالباً تمام سینیئر شعراء موجود تھے اور شاعری طارق نعیم سنا رہے تھے طارق نعیم ادبی افق پر نیا نام نہیں ہے یہ نام ادبی حلقوں

طارق نعیم کی شعری کلیات "آنکھ سے آسمان جاتا ہے”  ندیم ملک لاہور Read More »

سورج بھی سر پہ ہو تو اسے سائباں کہیں

غزل سورج بھی سر پہ ہو تو اسے سائباں کہیں اب دشت ہی کو آؤ ہم اپنا مکاں کہیں ہوں ایک آسمان و زمیں جس جگہ وہاں سمجھیں کسے زمین کسے آسماں کہیں رندوں کو میکدے کی سیاست سے کیا غرض جو بھی پلائے ہم اسے پیر مغاں کہیں چپ بیٹھ کر بھی دوستو کٹتی

سورج بھی سر پہ ہو تو اسے سائباں کہیں Read More »

میرے مکاں سے کاش یہ منظر دکھائی دے

غزل میرے مکاں سے کاش یہ منظر دکھائی دے ہریالیوں کے بیچ ترا گھر دکھائی دے چہرہ کسی کا چاہے لگے ماہتاب سا جاؤ نہ اتنے پاس کہ پتھر دکھائی دے اس شخص کو صداؤں سے پہچان جائیے جس شخص کا نہ جسم نہ پیکر دکھائی دے آتا ہے اور کون ہوا کے سوا یہاں

میرے مکاں سے کاش یہ منظر دکھائی دے Read More »

جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گا

غزل جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گا کہیں لیکن کوئی چہرہ نہ دکھائی دے گا جانے کیا حال نگاہوں کا وہ لمحہ کر دے جب نہ کچھ تیرے سوا مجھ کو دکھائی دے گا ڈوبتے وقت کی آواز ہوں کر لو محفوظ پھر مرے بعد یہ نغمہ نہ سنائی دے گا ہاتھ

جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گا Read More »

ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میں

غزل ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میں جب سے جکڑا ہوں میں کمرے کے در و دیوار میں چھ برس کے بعد اک سونے مکاں کے بام و در بس گئے ہیں پھر کسی کے جسم کی مہکار میں مجھ کو اپنے جسم سے باہر نکلنا چاہئے ورنہ میرا دم گھٹے گا اس

ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میں Read More »