MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے

غزل

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے
ایک رخنہ سا ہے دیوار میں در سے کم ہے

حرف کی لو میں ادھر اور بڑھا دیتا ہوں
آپ بتلائیں تو یہ خواب جدھر سے کم ہے

ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت
پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے

سوچ لو میں بھی ہوا چپ تو گراں گزرے گا
یہ اندھیرا جو مرے شور و شرر سے کم ہے

وہ بجھا جائے تو یہ دل کو جلا دے پھر سے
شام ہی کون سی راحت میں سحر سے کم ہے

خاک اتنی نہ اڑائیں تو ہمیں بھی بابرؔ
دشت اچھا ہے کہ ویرانی میں گھر سے کم ہے

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم