MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کا اور حال مضافات کا کب اچھا ہے

غزل

دل کا اور حال مضافات کا کب اچھا ہے
پر تجھے دیکھ کے لگتا ہے کہ سب اچھا ہے

ایک تصویر میں لگتا ہے کہ ہم بھی خوش تھے
ایک آواز سے لگتا ہے کہ سب اچھا ہے

میری دنیا میں کوئی چیز ٹھکانے پہ نہیں
بس تجھے دیکھ کے لگتا ہے کہ سب اچھا ہے

سوچنے بیٹھیں تو اصلاح کی صورت ہی نہیں
دیکھنے میں یہی لگتا ہے کہ سب اچھا ہے

یہ قطاریں تیرے بیمار کے دیدار کی ہیں
تو نے جب شور مچا رکھا تھا اب اچھا ہے

کوئی استاد کی اصلاح کی صورت یا رب
علم بہتر ہے نہ حضرت کا ادب اچھا ہے

لوگوں کو آئینہ دکھلائیں نہ پتھر کھائیں
ارشمیدس کے لئے باتھ کا ٹب اچھا ہے

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم