MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پری اڑ جائے گی اور راجدھانی ختم ہوگی

غزل پری اڑ جائے گی اور راجدھانی ختم ہوگی یہ آنکھیں بند ہوتے ہی کہانی ختم ہوگی کسی صندوق میں دیمک زدہ خط دیکھتے ہی کہا دل نے اب اس کی ہر نشانی ختم ہوگی اسے یہ شوق گہری دھند لپٹے ہر شجر سے مجھے یہ فکر کیسے بد گمانی ختم ہوگی خبر کب تھی […]

پری اڑ جائے گی اور راجدھانی ختم ہوگی Read More »

کوئی تاثیر تو ہے اس کی نوا میں ایسی

غزل کوئی تاثیر تو ہے اس کی نوا میں ایسی روشنی پہلے نہ تھی دل کی فضا میں ایسی اور پھر اس کے تعاقب میں ہوئی عمر تمام ایک تصویر اڑی تیز ہوا میں ایسی جیسے ویران حویلی میں ہوں خاموش چراغ اب گزرتی ہیں ترے شہر میں شامیں ایسی آنکھ مصروف ہے زنبیل ہنر

کوئی تاثیر تو ہے اس کی نوا میں ایسی Read More »

بدن میں روح کی ترسیل کرنے والے لوگ

غزل بدن میں روح کی ترسیل کرنے والے لوگ بدل گئے مجھے تبدیل کرنے والے لوگ ابد تلک کے مناظر سمیٹ لیتے ہیں ذرا سی آنکھ کو زنبیل کرنے والے لوگ تمہی بتاؤ تمہیں چھوڑ کر کدھر جائیں تمہاری بات کی تعمیل کرنے والے لوگ کسے بتائیں کہ شاخ صلیب کون سی ہے یہ پات

بدن میں روح کی ترسیل کرنے والے لوگ Read More »

درد جب سے دل نشیں ہے عشق ہے

غزل درد جب سے دل نشیں ہے عشق ہے اس مکاں میں کچھ نہیں ہے عشق ہے دیکھ دشت یاد کا اعجاز دیکھ میں کہیں ہوں تو کہیں ہے عشق ہے تھک کے بیٹھا ہوں جو کنج ذات میں مہرباں کوئی نہیں ہے عشق ہے جو ازل سے ہجرتی ہیں اشک ہیں جو ان اشکوں

درد جب سے دل نشیں ہے عشق ہے Read More »

صورت عشق بدلتا نہیں تو بھی میں بھی

غزل صورت عشق بدلتا نہیں تو بھی میں بھی غم کی حدت سے پگھلتا نہیں تو بھی میں بھی اب زمانے میں محبت ہے تماشے کی طرح اس تماشے سے بہلتا نہیں تو بھی میں بھی ان سلگتی ہوئی سانسوں کو نہیں دیکھتے لوگ اور سمجھتے ہیں کہ جلتا نہیں تو بھی میں بھی اپنا

صورت عشق بدلتا نہیں تو بھی میں بھی Read More »

روٹھ کر آنکھ کے اندر سے نکل جاتے ہیں

غزل روٹھ کر آنکھ کے اندر سے نکل جاتے ہیں اشک بچوں کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں سبز پیڑوں کو پتہ تک نہیں چلتا شاید زرد پتے بھرے منظر سے نکل جاتے ہیں اس گزر گاہ محبت میں کہاں آ گیا میں دوست چپ چاپ برابر سے نکل جاتے ہیں تم تراشے ہوئے

روٹھ کر آنکھ کے اندر سے نکل جاتے ہیں Read More »

لفظ کی قید سے رہا ہو جا

غزل لفظ کی قید سے رہا ہو جا آ مری آنکھ سے ادا ہو جا پھینک دے خشک پھول یادوں کے ضد نہ کر تو بھی بے وفا ہو جا خشک پیڑوں کو کٹنا پڑتا ہے اپنے ہی اشک پی ہرا ہو جا چھیڑ اس حبس میں مہکتی غزل اور در کھولتی ہوا ہو جا

لفظ کی قید سے رہا ہو جا Read More »

اردو ادب نوسربازوں کے نرغے میں (Prof.Dr.Shadab Ehsani, Karachi)

اردو ادب نوسربازوں کے نرغے میں (Prof.Dr.Shadab Ehsani, Karachi) ”اردوادب برائے فروخت……“ اردوبازار کے ہر مہمان پبلشر کی دکان پر اس بات کااہتمام وانتظام موجود ہے کہ بلند پایہ ادیب وشاعر اپنی تمام عمر کی پونجی سفارش اورخوشامد کے ذریعے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کرے۔پبلشر سلیقے سے ناقدری ِ عالم کاگلہ کرتے ہوئے اپنے منافع

اردو ادب نوسربازوں کے نرغے میں (Prof.Dr.Shadab Ehsani, Karachi) Read More »

ڈاکٹر شاداب احسانی علم و آگہی کا استعارہ

ڈاکٹر شاداب احسانی علم و آگہی کا استعارہ موجِ سخن ادبی ڈیسک   ڈاکٹر شاداب احسانی جن کا اصل نام ، ڈاکٹر ذوالقرنین احمد (قلمی نام شاداب احسانی) ولد حکیم سلطان احمد دہلوی کا تعلق کراچی سے ہے، 1967ء میں شاداب احسانی نے پہلا مشاعرہ پڑھا۔ 1995ء میں شعبہ اردو جامعہ کراچی میں لیکچرار تعینات ہوئے‘

ڈاکٹر شاداب احسانی علم و آگہی کا استعارہ Read More »

لکھنؤ کے عہد شباب کی ایک شاعرہ نواب بیگم حجاب نیاز فتح پوری

لکھنؤ کے عہد شباب کی ایک شاعرہ نواب بیگم حجاب نیاز فتح پوری جن حضرات نے تاریخ اودھ کا مطالعہ کیا ہے، وہ اس حقیقت سے بے خبر نہ ہوں گے کہ نواب شجاع الدولہ سے لے کرجان عالم واجد علی شاہ تک زمانہ کیسا رنگین و عیش کوش گزرا ہے۔ یوں تو برہان الملک

لکھنؤ کے عہد شباب کی ایک شاعرہ نواب بیگم حجاب نیاز فتح پوری Read More »