تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے
غزل تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے خدشات کا موسم ہے سوالات تو ہوں گے ہر قلب و نگہ میں یہ تضادات تو ہوں گے دنیائے عجائب میں کمالات تو ہوں گے اب ہنس کے دکھاؤ تو بڑا ظرف تمہارا اپنوں سے لگی چوٹ تو صدمات تو ہوں گے تردید و تردد کے […]
تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے Read More »