MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے

غزل تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے خدشات کا موسم ہے سوالات تو ہوں گے ہر قلب و نگہ میں یہ تضادات تو ہوں گے دنیائے عجائب میں کمالات تو ہوں گے اب ہنس کے دکھاؤ تو بڑا ظرف تمہارا اپنوں سے لگی چوٹ تو صدمات تو ہوں گے تردید و تردد کے […]

تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے Read More »

سوال شام پہ آیا جواب شب آخر

غزل سوال شام پہ آیا جواب شب آخر کشیدگی کا نہ پایا مگر سبب آخر تمہارے غم مرے خواہاں نہ میرا اپنا وجود کہاں سے لاؤں گی میں شدت طلب آخر عنایت ان کی جو وہ حال پوچھ لیں ورنہ کسی سے ان کے مراسم ہوئے ہیں کب آخر محبتوں کی روایت تو کائنات میں

سوال شام پہ آیا جواب شب آخر Read More »

تکلفات میں لمحات مت گنوایا کر

غزل تکلفات میں لمحات مت گنوایا کر بلا ارادہ بھی تھوڑا سا مسکرایا کر ہمارے سامنے یہ وضع مت بنایا کر فراخ دل ہے تو ہر بات بھول جایا کر ہمارے شعر ترا ذکر بات ایک ہی ہے ہمارے شعر ہمیں یاد مت دلایا کر طبیعتوں کی روانی نہ جانے کیا دکھلائے کسی کے ظاہری

تکلفات میں لمحات مت گنوایا کر Read More »

کسی کے ساتھ دینے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا

غزل کسی کے ساتھ دینے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا وسیع القلب ہونا اس قدر آساں نہیں ہوتا بچھڑتے وقت اک آنسو پس مژگاں نہیں ہوتا مگر یہ حوصلہ اس درد کا درماں نہیں ہوتا جدائی کا تأثر مجھ پہ کچھ ہے آپ پر کچھ ہے اثر ہر بات کا ہر شخص پر یکساں نہیں

کسی کے ساتھ دینے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا Read More »

ہمیں اپنی ذات سے عشق ہوا ہم اپنے لئے بیتاب ہوئے

غزل ہمیں اپنی ذات سے عشق ہوا ہم اپنے لئے بیتاب ہوئے تم لوگ پرائے ہجر میں تھے تم اپنے لئے نایاب ہوئے ہمیں کس کی خبر ہمیں کس کا پتہ ہمیں اپنا حصول ضروری تھا معلوم نہیں اوروں کے لئے ہم خواب ہوئے کہ سراب ہوئے اس گاؤں کے سب کچے رستے کسی شہر

ہمیں اپنی ذات سے عشق ہوا ہم اپنے لئے بیتاب ہوئے Read More »

پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہم

غزل پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہم کل اس طرح نہیں مل پائیں گے جو آج ہیں ہم کوئی خطائے محبت ازل میں کر لی تھی زبان شعر میں بھیجا ہوا خراج ہیں ہم اس اک ہنر سے خدا سب کو فیضیاب کرے کہ اب بھی جس کے لئے وقف احتیاج ہیں

پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہم Read More »

خاک ہوتی ہوئی ہستی سے اٹھا

غزل خاک ہوتی ہوئی ہستی سے اٹھا عشق کا بوجھ بھی مٹی سے اٹھا ہجر تھا بار امانت کی طرح سو یہ غم آخری ہچکی سے اٹھا لو ترے بعد بڑھی اشکوں کی شعلۂ عشق بھی پانی سے اٹھا دل نے آباد کیا عشق آباد خاک ہو کر اسی بستی سے اٹھا دل اسی درد

خاک ہوتی ہوئی ہستی سے اٹھا Read More »

کہیں شعور میں صدیوں کا خوف زندہ تھا

غزل کہیں شعور میں صدیوں کا خوف زندہ تھا میں شاخ عصر پہ بیٹھا ہوا پرندہ تھا بدن میں دل تھا معلق خلا میں نظریں تھیں مگر کہیں کہیں سینے میں درد زندہ تھا پھر ایک رات مجھی پر جھپٹ پڑا مرا ضبط جسے میں پال رہا تھا کوئی درندہ تھا خوشی نے ہاتھ بڑھایا

کہیں شعور میں صدیوں کا خوف زندہ تھا Read More »

یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے

غزل یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے دل جو اس وقت مرے ہات سے نکلا ہوا ہے مڑ کے دیکھے بھی تو پتھر نہیں ہوتا کوئی جانے کیا شہر طلسمات سے نکلا ہوا ہے رات یہ کون سا مہمان مرے گھر آیا سارا گھر حلقۂ آفات سے نکلا ہوا ہے حجرۂ ہجر

یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے Read More »

موج خیال میں نہ کسی جل پری میں آئے

غزل موج خیال میں نہ کسی جل پری میں آئے دریا کے سارے رنگ مری تشنگی میں آئے پھر ایک روز آن ملا ابر ہم مزاج مٹی نمو پذیر ہوئی تازگی میں آئے دامن بچا رہے تھے کہ چہرہ بھی جل گیا کس آگ سے گزر کے تری روشنی میں آئے یہ میں ہوں میرے

موج خیال میں نہ کسی جل پری میں آئے Read More »