MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

صورت عشق بدلتا نہیں تو بھی میں بھی

غزل

صورت عشق بدلتا نہیں تو بھی میں بھی
غم کی حدت سے پگھلتا نہیں تو بھی میں بھی

اب زمانے میں محبت ہے تماشے کی طرح
اس تماشے سے بہلتا نہیں تو بھی میں بھی

ان سلگتی ہوئی سانسوں کو نہیں دیکھتے لوگ
اور سمجھتے ہیں کہ جلتا نہیں تو بھی میں بھی

اپنا نقصان برابر کا ہوا آندھی میں
اب کسی شاخ پہ پھلتا نہیں تو بھی میں بھی

اے سمندر تری پھیلی ہوئی بانہوں کی قسم
اپنی موجوں سے نکلتا نہیں تو بھی میں بھی

ڈگمگاتے ہیں قدم ڈولتی ہے وقت کی سانس
تار ہستی پہ سنبھلتا نہیں تو بھی میں بھی

اب وہ غالب ہے نہ وہ اہل کرم ہیں توقیرؔ
عشق میں بھیس بدلتا نہیں تو بھی میں بھی

توقیر تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم