MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یوپی کے ایک نوجوان ہندو شاعر فراق گورکھپوری نیاز فتح پوری

یوپی کے ایک نوجوان ہندو شاعر فراق گورکھپوری نیاز فتح پوری   ایک زمانہ تھا کہ میری زندگی کی تنہائیوں کا دلچسپ ترین مشغلہ صر ف شعر پڑھنا تھا، اس کے بعد شعر کہنے کا دور آیا اور کافی عرصہ تک مجھ پر مسلط رہا، لیکن ان دونوں زمانوں میں کوئی زمانہ اس احساس سے […]

یوپی کے ایک نوجوان ہندو شاعر فراق گورکھپوری نیاز فتح پوری Read More »

کلام مومن پر ایک طائرانہ نگاہ نیاز فتح پوری

کلام مومن پر ایک طائرانہ نگاہ نیاز فتح پوری اگر میرے سامنے اردو کے تمام شعراء متقدمین و متاخرین کا کلام رکھ کر (بہ استثنائے میرؔ) مجھ کو صرف ایک دیوان حاصل کرنے کی اجازت دی جائے تو میں بلا تامل کہہ دوں گا کہ مجھے کلیات مومن دے دو اور باقی سب اٹھا لے

کلام مومن پر ایک طائرانہ نگاہ نیاز فتح پوری Read More »

طاق میں کون رکھ گیا ایک دیا اور ایک پھول

غزل طاق میں کون رکھ گیا ایک دیا اور ایک پھول دھیان میں پھر سے جل اٹھا ایک دیا اور ایک پھول میرے تمہارے درمیاں قطرۂ اشک رائیگاں پچھلی رتوں کا سانحہ ایک دیا اور ایک پھول خواب ہی خواب میں کٹی عمر تمام جل بجھی تیرا کہا مرا سنا ایک دیا اور ایک پھول

طاق میں کون رکھ گیا ایک دیا اور ایک پھول Read More »

سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں

غزل سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں سکھی پرندوں کی چہکاریں گیتوں والی بھیجو ناں ایک اک کر کے پنچھی اڑتے جائیں ٹھور ٹھکانوں سے بھوک اڑے کھلیانوں میں رت باجرے والی بھیجو ناں چکنے مکنے آنگن مانگیں روز دعائیں پرندوں کی کبھی تو ان کی دعا سنو اور بھری کنڈالی بھیجو

سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں Read More »

دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی

غزل دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی جس کو بہلا نہیں سکتا ہے کھلونا کوئی میں تو جلتے ہوئے زخموں کے تلے رہتی ہوں تو نے دیکھا ہے کبھی دھوپ کا صحرا کوئی میں لہو ہوں تو کوئی اور بھی زخمی ہوگا اپنی دہلیز پہ پھینکو تو نہ شیشہ کوئی خواہشیں دل

دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی Read More »

لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں

غزل لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں تن صحرا اور آنکھ سمندر کیوں رکھتی ہیں عورتیں اپنے دکھ کی وراثت کس کو دیں گی صندوقوں میں بند یہ زیور کیوں رکھتی ہیں وہ جو آپ ہی پوجی جانے کے لائق تھیں چمپا سی پوروں میں پتھر کیوں رکھتی ہیں وہ جو رہی ہیں خالی

لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں Read More »

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی

غزل میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی زخموں کا حساب لکھ رہی تھی پھولوں کی زباں کی شاعرہ تھی کانٹوں سے گلاب لکھ رہی تھی اس پیڑ کے کھوکھلے تنے پر اک عمر کے خواب لکھ رہی تھی آنکھوں سے سوال پڑھ رہی تھی پلکوں سے جواب لکھ رہی تھی ہر بوند شکستہ بام و

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی Read More »

پرانے محلے کا سنسان آنگن

غزل پرانے محلے کا سنسان آنگن مجھے پا کے تھا کتنا حیران آنگن یہ تہذیب کو پاؤں چلنا سکھائیں سمیٹے ہیں صدیوں کے امکان آنگن وہ دیوار سے جھانکتی شوخ آنکھیں وہ پہرے پہ بوڑھا نگہبان آنگن کوئی جست میں پار کرتا ہے چوکھٹ کسی کے لئے اک بیابان آنگن کسی کے لئے پایۂ تخت

پرانے محلے کا سنسان آنگن Read More »

میں پھول پھول سفر کر رہی تھی خوابوں کا

غزل میں پھول پھول سفر کر رہی تھی خوابوں کا پھوار لائی تھی تحفہ نئے گلابوں کا ملے تو قرب کا وہ اعتماد ہی نہ رہا بھلا تھا اس سے تو موسم وہی حجابوں کا وہ زخم چن کے مرے خار مجھ میں چھوڑ گیا کہ اس کو شوق تھا بے انتہا گلابوں کا وہ

میں پھول پھول سفر کر رہی تھی خوابوں کا Read More »

تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے

غزل تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے خواب و خبر کا سلسلہ یونہی کبھو کبھو رہے درد بھی ہاتھ تھام لے زخم بھی بولنے لگیں یعنی نہال شاخ غم ایسے ہی با نمو رہے عشق میں احتیاط ہی گویا ہے پاس وضع عشق چاک ہوں صد ہزار اور دامن دل

تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے Read More »