MOJ E SUKHAN

بدن میں روح کی ترسیل کرنے والے لوگ

غزل

بدن میں روح کی ترسیل کرنے والے لوگ
بدل گئے مجھے تبدیل کرنے والے لوگ

ابد تلک کے مناظر سمیٹ لیتے ہیں
ذرا سی آنکھ کو زنبیل کرنے والے لوگ

تمہی بتاؤ تمہیں چھوڑ کر کدھر جائیں
تمہاری بات کی تعمیل کرنے والے لوگ

کسے بتائیں کہ شاخ صلیب کون سی ہے
یہ پات پات کو انجیل کرنے والے لوگ

زمیں پہ آئے تھے کار پیمبری کے لیے
زمیں سپرد عزازیل کرنے والے لوگ

اندھیری رات ہے خیمے میں اک دیا بھی نہیں
کہاں ہیں صبر کو قندیل کرنے والے لوگ

عبور کر کے اسے ہو گئے کہاں آباد
حیات رہ گزر نیل کرنے والے لوگ

ہم اپنے عشق سے دنیا بدلنا چاہتے ہیں
مگر یہ عشق کی تذلیل کرنے والے لوگ

توقیر تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم