MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں

غزل

سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں
سکھی پرندوں کی چہکاریں گیتوں والی بھیجو ناں

ایک اک کر کے پنچھی اڑتے جائیں ٹھور ٹھکانوں سے
بھوک اڑے کھلیانوں میں رت باجرے والی بھیجو ناں

چکنے مکنے آنگن مانگیں روز دعائیں پرندوں کی
کبھی تو ان کی دعا سنو اور بھری کنڈالی بھیجو ناں

الگنیوں الگنیوں پھیلی رنگ برنگی انگیوں کو
لہریں لیتے جسم اور ہنستے مکھ کی لالی بھیجو ناں

سکھی رہیں وہ ہاتھ جو ڈلیا بنتے کبھی نہیں تھکتے
سندیسہ اس ماں کو جس کی آتما خالی بھیجو ناں

بجرے دریا پار خزانے اپنے ڈھو لے جاتے ہیں
سر اور تن کی جدا جدا اب کے رکھوالی بھیجو ناں

سائیں رات کی رات یہ بستی مقتل کیوں بن جاتی ہے
اب جس رات بھی خنجر نکلیں آندھی کالی بھیجو ناں

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم