یوں ہی کسی کے دھیان میں اپنے آپ میں گاتی دوپہریں
غزل یوں ہی کسی کے دھیان میں اپنے آپ میں گاتی دوپہریں نرم گلابی جاڑوں والی بال سکھاتی دوپہریں سارے گھر میں شام ڈھلے تک کھیل وہ دھوپ اور چھاؤں کا لپے پتے کچے آنگن میں لوٹ لگاتی دوپہریں جیون ڈور کے پیچھے حیراں بھاگتی ٹولی بچوں کی گلیوں گلیوں ننگے پاؤں دھول اڑاتی دوپہریں […]
یوں ہی کسی کے دھیان میں اپنے آپ میں گاتی دوپہریں Read More »