MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کس کو معلوم ہے کیا ہوگا نظر سے پہلے

قطعہ کس کو معلوم ہے کیا ہوگا نظر سے پہلے ہوگا کوئی بھی جہاں ذات بشر سے پہلے کون اس راز سے ہے ماورا کیا جانتے ہو کون موجود صدف میں تھا گہر سے پہلے راحت وصل ہے کیا رات کا آرام ہے کیا گویا جاگ اٹھتے ہیں ہم لوگ سحر سے پہلے احمد ہمیش

کس کو معلوم ہے کیا ہوگا نظر سے پہلے Read More »

نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی

غزل نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی نہیں ہے کوئی بھی دنیا میں سلسلہ باقی یہ کھیل ختم کرو اقتدار کا یہ کھیل کہ ہے قریب اجل کے ترا گلا باقی مقام عبرت فانی سے کون ہے محفوظ کہ کون حاکم اسباب رہ گیا باقی سکوت مرگ کے رستہ پہ کچھ نہیں

نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی Read More »

کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے

غزل کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے دل سلامت نہیں تو کیا رکھیے لکھیے کچھ اور داستان دل اور زمانہ کو مبتلا رکھیے سر میں سودا رہے محبت کا پاؤں میں خاک کی انا رکھیے بوند بھر آب کیا مقدر ہے ابر رکھیے تو کچھ ہوا رکھیے اس سے پہلے کوئی جلانے آئے آپ اپنا

کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے Read More »

صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں

غزل صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں عجیب ہے بساط عشق عجب نظام الاماں تھے کبھی جو سرخ رو وہ تو ہم نہیں رہے تم تو ہو چنیں چناں تمہارا نام الاماں گزر گئی یہ زندگی قدم قدم گھسیٹ کے موت بھی آ رہی ہے کیا گام بہ گام الاماں پھر رہا تھا جا

صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں Read More »

ادھر کی شے ادھر کر دی گئی ہے

غزل ادھر کی شے ادھر کر دی گئی ہے زمیں زیر و زبر کر دی گئی ہے یہ کالی رات ہے دو چار پل کی یہ کہنے میں سحر کر دی گئی ہے تعارف کو ذرا پھیلا دیا ہے کہانی مختصر کر دی گئی ہے نہ پوچھو کیسے گزری عمر ساری ذرا میں عمر بھر

ادھر کی شے ادھر کر دی گئی ہے Read More »

کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں

غزل کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں ہمیں زندگی سے ہو بحث کیا کوئی واقعہ تو ہوا نہیں مگر ایسی کوئی خلش بھی تھی جو فقط ہمارا نصیب تھی کہ جو روگ ہم نے لگا لیا کسی اور کو تو لگا نہیں ذرا دیکھنا کہ وہ کون

کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں Read More »

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں

غزل جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں کروٹ بدل کے سو رہا ہوں یہ جاگنا اور سونا کیا ہے آنکھوں میں جہاں سمو رہا ہوں دنیا سے الجھ کے سر پہ شاید اپنی ہی بلا کو ڈھو رہا ہوں یہ لاگ اور لگاؤ کیا ہے اپنا وجود ہی ڈبو رہا ہوں اب تک

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں Read More »

تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن

غزل تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن تم راہ سے بچھڑے تھے کہ بس ڈوب گیا دن جو تم سے مہک جائے اک ایسی نہ ملی رات جو تم سے چمک جائے اک ایسا نہ ملا دن اک رنگئی حالات سے پتھرا گئیں آنکھیں جس طرح کٹی رات اسی طرح کٹا دن

تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن Read More »

جہاں سے ہوتا ہے پیارے خدا کا نام شروع

غزل جہاں سے ہوتا ہے پیارے خدا کا نام شروع وہیں سے کرتے ہم زندگی کا کام شروع یہ کیسی راہ سفر ہے یہ کیسا عالم ہے کہ پاؤں رکھیں جہاں بھی وہیں مقام شروع جہاں پہ ہوتا ہے دل پہ نزول بار عذاب وہیں سے ہوتا ہے دنیا کا یہ نظام شروع نہ سوچو

جہاں سے ہوتا ہے پیارے خدا کا نام شروع Read More »

بے نیازانہ ہر اک راہ سے گزرا بھی کرو

غزل بے نیازانہ ہر اک راہ سے گزرا بھی کرو شوق نظارہ جو ٹھہرائے تو ٹھہرا بھی کرو اتنے شائستۂ آداب محبت نہ بنو شکوہ آتا ہے اگر دل میں تو شکوہ بھی کرو سینۂ عشق تمناؤں کا مدفن تو نہیں شوق دیدار اگر ہے تقاضا بھی کرو وہ نظر آج بھی کم معنی و

بے نیازانہ ہر اک راہ سے گزرا بھی کرو Read More »