MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں

غزل نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں میں ایک عرصہء بے رنگ کے حصار میں ہوں سپاہ غیر نے کب مجھ کو زخم زخم کیا میں آپ اپنی ہی سانسوں کے کار زار میں ہوں کشاں کشاں جسے لے جائیں گے سر مقتل مجھے خبر ہے کہ میں بھی اسی قطار میں […]

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں Read More »

کیا وقت پڑا ہے ترے آشفتہ سروں پر

غزل کیا وقت پڑا ہے ترے آشفتہ سروں پر اب دشت میں ملتے نہیں ملتے ہیں گھروں پر پہچان لو اس خاک رہ حرص و ہوا کو قدموں سے یہ اٹھتی ہے تو گرتی ہے سروں پر خود اپنے ہی اندر سے ابھرتا ہے وہ موسم جو رنگ بچھا دیتا ہے تتلی کے پروں پر

کیا وقت پڑا ہے ترے آشفتہ سروں پر Read More »

سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے

غزل سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے غنیمت ہے کہ اپنے غمزدوں کو وہ حسن خود نگر پہچانتا ہے جسے کھو کر بہت مغموم ہوں میں سنا ہے اس کا غم مجھ سے سوا ہے کچھ ایسے غم بھی ہیں جن سے ابھی تک دل غم آشنا

سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے Read More »

ہم بھی بدل گئے تری طرز ادا کے ساتھ ساتھ

غزل ہم بھی بدل گئے تری طرز ادا کے ساتھ ساتھ رنگ حنا کے ساتھ ساتھ شوخئ پا کے ساتھ ساتھ نکہت زلف لے اڑی مثل خیال چل پڑی چلتا ہے کون دیکھیے آج حنا کے ساتھ ساتھ اتنی جفا طرازیاں اتنی ستم شعاریاں تم بھی چلے ہو کچھ قدم اہل وفا کے ساتھ ساتھ

ہم بھی بدل گئے تری طرز ادا کے ساتھ ساتھ Read More »

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج

غزل اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج سوچتا ہوں کس طرح تجھ سے ملوں میرے اندر جاگ اٹھی اک چاندنی میں زمیں سے آسماں تک انگ ہوں اور اجلا ہو گیا قربت کا چاند اور گہرا ہو گیا تیرا فسوں اے سراپا رنگ نکہت تو بتا کس دھنک سے تیرا پیراہن بنوں سارے

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج Read More »

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

غزل لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں میں اپنے وجود کی سزا ہوں زخموں کے گلاب کھل رہے ہیں خوشبو کے ہجوم میں کھڑا ہوں اس دشت طلب میں ایک میں بھی صدیوں کی تھکی ہوئی صدا ہوں اس شہر طرب کے شور و غل میں تصویر سکوت بن گیا ہوں بے نام و نمود

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں Read More »

اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا

غزل اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا ایک سفر ہے وادئ جاں میں تیرے درد ہجر کے ساتھ تیرا درد ہجر جو بڑھ کر لذت کیف و صال ہوا راہ وفا میں جاں دینا ہی پیش رؤں کا شیوہ تھا

اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا Read More »

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا

غزل کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا ٹوٹ جاتے ہیں کبھی میرے کنارے مجھ میں ڈوب جاتا ہے کبھی مجھ میں سمندر میرا کسی صحرا میں بچھڑ جائیں گے سب یار مرے کسی جنگل میں بھٹک جائے گا لشکر میرا باوفا تھا تو مجھے پوچھنے والے

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا Read More »

سو رنگ ہے کس رنگ سے تصویر بناؤں

غزل سو رنگ ہے کس رنگ سے تصویر بناؤں میرے تو کئی روپ ہیں کس روپ میں آؤں کیوں آ کے ہر اک شخص مرے زخم کریدے کیوں میں بھی ہر اک شخص کو حال اپنا سناؤں کیوں لوگ مصر ہیں کہ سنیں میری کہانی یہ حق مجھے حاصل ہے سناؤں کہ چھپاؤں اس بزم

سو رنگ ہے کس رنگ سے تصویر بناؤں Read More »

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں

غزل سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں اپنے گم گشتہ کناروں کے لیے بہتا ہوں میں بیش قیمت ہوں مری قیمت لگا سکتا ہے کون تیرے کوچے میں بکوں تو پھر بہت سستا ہوں میں خواب جو دیکھے تھے میں نے وہ بھی اب دھندلا گئے اب تو تم آ جاؤ صاحب

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں Read More »