MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو

غزل پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو اب دل میں سر شام چراغاں نہیں ہوتا شعلہ ترے غم کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو کب عشق کیا کس سے کیا جھوٹ ہے یارو بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو […]

پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو Read More »

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا

غزل وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اسے دہرائیں کیا وہ زہر جو دل میں اتار لیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا پھر آنکھیں لہو سے خالی

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا Read More »

دن کا سورج بھی اندھیروں کے نگر جائے گا

غزل دن کا سورج بھی اندھیروں کے نگر جائے گا چاند بھی گہرے سمندر میں اتر جائے گا خامشی جسم کے زنداں میں نہ جانے پائے میرے جذبات کا طوفان ٹھہر جائے گا مجھ پہ تنہائی کا احساس گراں ہے لیکن سوچتا ہوں یہ زمانہ بھی گزر جائے گا میری آنکھوں میں کئی روپ نگر

دن کا سورج بھی اندھیروں کے نگر جائے گا Read More »

ہم آشنائے غم رہے فراق سے وصال تک

غزل   ہم آشنائے غم رہے فراق سے وصال تک دل و نظر بہم رہے فراق سے وصال تک ہم اور درد عشق کی لطافتوں سے آشنا شریک چشم نم رہے فراق سے وصال تک ہماری زندگی رہی مثال موجۂ صبا ہم اتنے محترم رہے فراق سے وصال تک قیود اجتناب میں حدود احتساب میں

ہم آشنائے غم رہے فراق سے وصال تک Read More »

عشق کی راہوں پہ چلنا ہے تو رسوائی نہ دیکھ

غزل عشق کی راہوں پہ چلنا ہے تو رسوائی نہ دیکھ تجھ کو پانی میں اترنا ہے تو گہرائی نہ دیکھ دیکھنا یہ ہے پس پردہ ملوث کون ہے پاؤں میں کس شخص نے زنجیر پہنائی نہ دیکھ پڑھ سکے تو پڑھ حکایات غم وارفتگاں دھوپ میں جھلسے ہوئے چہروں پہ رعنائی نہ دیکھ خار

عشق کی راہوں پہ چلنا ہے تو رسوائی نہ دیکھ Read More »

لوگوں کا اک ہجوم مرے آس پاس تھا

غزل لوگوں کا اک ہجوم مرے آس پاس تھا جب میں سفیر گلشن ہوش و حواس تھا تجویز کی تھی جس نے محبت مرے لئے شاید وہ شخص کوئی ستارہ شناس تھا جب تک چراغ عالم امکاں جلے رہے روشن کتاب عشق کا ہر اقتباس تھا جب تک وہ ایک ذات شریک سفر نہ تھی

لوگوں کا اک ہجوم مرے آس پاس تھا Read More »

اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ

غزل اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ لٹ نہ جائے شہر دل آباد رکھ سوچ کو احساس پر غالب نہ کر زندگی کو خوف سے آزاد رکھ زندگی کی چاہتیں رعنائیاں تو ہمیشہ اپنے دل کو شاد رکھ ظلم کا بیوپار چل سکتا نہیں دھیان اتنا اے ستم ایجاد رکھ ڈھنگ آ جائے گا جینے

اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ Read More »

اقرار کی صورت تھی نہ انکار کی صورت

غزل اقرار کی صورت تھی نہ انکار کی صورت دیکھی نہ گئی مجھ سے مرے یار کی صورت سب مجمع آشفتہ سراں دیکھ رہے تھے میں تکتا رہا آئنہ بردار کی صورت کچھ دن کے لئے قافلۂ خوش نظراں بھی گردش میں رہا گردش پرکار کی صورت وہ شہر جو رونق تھا جہان گزراں کی

اقرار کی صورت تھی نہ انکار کی صورت Read More »

مدتوں جو رہے بہاروں میں

غزل مدتوں جو رہے بہاروں میں آج وہ گھر گئے ہیں کانٹوں میں میں کہ صحرا نورد ہوں لیکن پرورش چاہتا ہوں پھولوں میں عکس تیرا دکھائی دیتا ہے بہتے پانی کی نرم لہروں میں کھل گئے خواہشوں کے دروازے پھر بھی کوئی نہیں ہے بانہوں میں جو مہکتے ہیں خوشبوؤں کی طرح لمس تیرا

مدتوں جو رہے بہاروں میں Read More »

اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں

غزل اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں دیکھتا ہوں کچھ کمی سی حسن مہر و ماہ میں اس کے ہوتے بھی میں اک احساس تنہائی میں ہوں جلوہ گر ہے وہ جو مدت سے دل آگاہ میں دور ہو کر مجھ سے چلتی ہے ہوائے جاں فزا جی رہا ہوں پھر

اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں Read More »