MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اقرار کی صورت تھی نہ انکار کی صورت

غزل

اقرار کی صورت تھی نہ انکار کی صورت
دیکھی نہ گئی مجھ سے مرے یار کی صورت

سب مجمع آشفتہ سراں دیکھ رہے تھے
میں تکتا رہا آئنہ بردار کی صورت

کچھ دن کے لئے قافلۂ خوش نظراں بھی
گردش میں رہا گردش پرکار کی صورت

وہ شہر جو رونق تھا جہان گزراں کی
لگتا ہے مجھے وادیٔ پر خار کی صورت

میں دشت تمنا کا مسافر ہوں مجھے بھی
اک سایہ ملے سایۂ دیوار کی صورت

اب تک مری آنکھوں میں حرارت ہے وفا کی
دیکھی تھی کبھی کوچۂ دل دار کی صورت

اخترؔ کو نہ راس آیا کبھی موسم ہجراں
پھر بھی ہے رواں لمحۂ بیدار کی صورت

اختر سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم