MOJ E SUKHAN

مجھے حاصل کمال گفتگو ہے

غزل

مجھے حاصل کمال گفتگو ہے
یہ میں ہوں یا مرے لہجہ میں تو ہے

جنون آبلہ پائی ٹھہر جا
ابھی برہم مزاج جستجو ہے

کسی دن تو حد امکاں میں ہوگا
تصور میں جو شہر آرزو ہے

اثر انداز ہوگا ذہن و دل پر
جو سناٹا فضا میں چار سو ہے

زباں پر ہی نہیں حرف تمنا
مرا دل بھی شریک گفتگو ہے

ہر اک چہرہ تر و تازہ ملے گا
جہاں تک بھی حصار رنگ و بو ہے

محافظ ہے مری اچھائیوں کا
وہ آئینہ جو میرے روبرو ہے

اختر سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم