کوئی پہلو بھی اب نیا نہیں ہے
غزل کوئی پہلو بھی اب نیا نہیں ہے بات کرنے کو کچھ بچا نہیں ہے ہم تجھے دیکھنے کو ترسے ہیں اور تو جان کر ملا نہیں ہے ایک چڑیا کے آشیانے کو شہر بھر میں کہیں جگہ نہیں ہے سینکڑوں الوداعی سندیسے اور وہ آج تک گیا نہیں ہے جب بھی چاہو گے چھوڑ […]
کوئی پہلو بھی اب نیا نہیں ہے Read More »