MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عجب طرح کی مسافتیں ہیں مقدروں میں

غزل

عجب طرح کی مسافتیں ہیں مقدروں میں
نہ قربتوں میں سکون پایا نہ فاصلوں میں

سنہری جھیلوں میں عکس پڑتے تھے پربتوں کے
ابھی فروزاں ہیں سارے منظر بصارتوں میں

اسے نہ فرصت ملے گی دفتر سے دوستوں سے
ہم اپنے آنسو چھپائے بیٹھے سہیلیوں میں

رگوں میں پیہم رواں ہے عنبر فشاں محبت
کسی کے بالوں کا لمس زندہ ہے انگلیوں میں

دو ساعتوں میں سمٹ گئی داستاں ہماری
پھسل گئی ہے جو ریت باقی تھی مٹھیوں میں

نہ پھول جیسے حسیں فرشتوں کے پر تراشو
نہ زہر گھولو ابھی سے کچی سماعتوں میں

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم