بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب
غزل بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب اور بھی سرخ ہے رخسار حیا آخر شب منزلیں عشق کی آساں ہوئیں چلتے چلتے اور چمکا ترا نقش کف پا آخر شب کھٹکھٹا جاتا ہے زنجیر در مے خانہ کوئی دیوانہ کوئی آبلہ پا آخر شب سانس رکتی ہے چھلکتے ہوئے پیمانے میں کوئی لیتا […]
بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب Read More »