MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب

غزل بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب اور بھی سرخ ہے رخسار حیا آخر شب منزلیں عشق کی آساں ہوئیں چلتے چلتے اور چمکا ترا نقش کف پا آخر شب کھٹکھٹا جاتا ہے زنجیر در مے خانہ کوئی دیوانہ کوئی آبلہ پا آخر شب سانس رکتی ہے چھلکتے ہوئے پیمانے میں کوئی لیتا […]

بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب Read More »

سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات

غزل سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات جہاں میں عام ہوئی چشم انتظار کی بات دلوں کی تشنگی جتنی دلوں کا غم جتنا اسی قدر ہے زمانے میں حسن یار کی بات جہاں بھی بیٹھے ہیں جس جا بھی رات مے پی ہے انہی کی آنکھوں کے قصے انہی کے پیار کی بات

سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات Read More »

تیرے دیوانے تری چشم و نظر سے پہلے

غزل تیرے دیوانے تری چشم و نظر سے پہلے دار سے گزرے تری راہ گزر سے پہلے بزم سے دور وہ گاتا رہا تنہا تنہا سو گیا ساز پہ سر رکھ کے سحر سے پہلے اس اندھیرے میں اجالوں کا گماں تک بھی نہ تھا شعلہ رو شعلہ نوا شعلہ نظر سے پہلے کون جانے

تیرے دیوانے تری چشم و نظر سے پہلے Read More »

اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے

غزل اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے ایک آنسو جو سر چشم وفا ہوتا ہے اس گزر گاہ میں اس دشت میں اے جذبۂ عشق جز ترے کون یہاں آبلہ پا ہوتا ہے دل کی محراب میں اک شمع جلی تھی سر شام صبح دم ماتم ارباب وفا ہوتا ہے دیپ

اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے Read More »

ایک تھا شخص زمانہ تھا کہ دیوانہ بنا

غزل ایک تھا شخص زمانہ تھا کہ دیوانہ بنا ایک افسانہ تھا افسانے سے افسانہ بنا اک پری چہرہ کہ جس چہرے سے آئینہ بنا دل کہ آئینہ در آئینہ پری خانہ بنا خیمۂ شب میں نکل آتا ہے گاہے گاہے ایک آہو کبھی اپنا کبھی بیگانہ بنا ہے چراغاں ہی چراغاں سر عارض سر

ایک تھا شخص زمانہ تھا کہ دیوانہ بنا Read More »

وہ جو چھپ جاتے تھے کعبوں میں صنم خانوں میں

غزل وہ جو چھپ جاتے تھے کعبوں میں صنم خانوں میں ان کو لا لا کے بٹھایا گیا دیوانوں میں فصل گل ہوتی تھی کیا جشن جنوں ہوتا تھا آج کچھ بھی نہیں ہوتا ہے گلستانوں میں آج تو تلخیٔ دوراں بھی بہت ہلکی ہے گھول دو ہجر کی راتوں کو بھی پیمانوں میں آج

وہ جو چھپ جاتے تھے کعبوں میں صنم خانوں میں Read More »

یہ کون آتا ہے تنہائیوں میں جام لیے

غزل یہ کون آتا ہے تنہائیوں میں جام لیے جلو میں چاندنی راتوں کا اہتمام لیے چٹک رہی ہے کسی یاد کی کلی دل میں نظر میں رقص بہاراں کی صبح و شام لیے ہجوم بادۂ و گل میں ہجوم یاراں میں کسی نگاہ نے جھک کر مرے سلام لیے کسی خیال کی خوشبو کسی

یہ کون آتا ہے تنہائیوں میں جام لیے Read More »

عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے

غزل عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے ہجر میں ملنے شب ماہ کے غم آئے ہیں چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے کوئی جلتا ہی نہیں کوئی پگھلتا ہی نہیں موم بن جاؤ پگھل جاؤ کہ کچھ رات کٹے چشم

عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے Read More »

پھر چھڑی رات بات پھولوں کی

غزل پھر چھڑی رات بات پھولوں کی رات ہے یا برات پھولوں کی پھول کے ہار پھول کے گجرے شام پھولوں کی رات پھولوں کی آپ کا ساتھ ساتھ پھولوں کا آپ کی بات بات پھولوں کی نظریں ملتی ہیں جام ملتے ہیں مل رہی ہے حیات پھولوں کی کون دیتا ہے جان پھولوں پر

پھر چھڑی رات بات پھولوں کی Read More »

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

غزل آپ کی یاد آتی رہی رات بھر چشم نم مسکراتی رہی رات بھر رات بھر درد کی شمع جلتی رہی غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر بانسری کی سریلی سہانی صدا یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر یاد کے چاند دل میں اترتے رہے چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر کوئی دیوانہ

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر Read More »