MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے

غزل

اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے
ایک آنسو جو سر چشم وفا ہوتا ہے

اس گزر گاہ میں اس دشت میں اے جذبۂ عشق
جز ترے کون یہاں آبلہ پا ہوتا ہے

دل کی محراب میں اک شمع جلی تھی سر شام
صبح دم ماتم ارباب وفا ہوتا ہے

دیپ جلتے ہیں دلوں میں کہ چتا جلتی ہے
اب کی دیوالی میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے

جب برستی ہے تری یاد کی رنگین پھوار
پھول کھلتے ہیں در مے کدہ وا ہوتا ہے

مخدوم محی الدین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم