MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات

غزل

سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات
جہاں میں عام ہوئی چشم انتظار کی بات

دلوں کی تشنگی جتنی دلوں کا غم جتنا
اسی قدر ہے زمانے میں حسن یار کی بات

جہاں بھی بیٹھے ہیں جس جا بھی رات مے پی ہے
انہی کی آنکھوں کے قصے انہی کے پیار کی بات

چمن کی آنکھ بھر آئی کلی کا دل دھڑکا
لبوں پہ آئی ہے جب بھی کسی قرار کی بات

یہ زرد زرد اجالے یہ رات رات کا درد
یہی تو رہ گئی اب جان بے قرار کی بات

تمام عمر چلی ہے تمام عمر چلے
الٰہی ختم نہ ہو یار غم گسار کی بات

مخدوم محی الدین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم