MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

غزل پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں دور دور تک چبھتی ہے سوئیوں کی طرح جب رگوں میں رات وہ کھردری چٹانیں وہ دریا وہ آبشار سب کچھ سمیٹ لے گئی اپنے پروں میں رات آنکھوں کو سب کی نیند […]

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات Read More »

کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے

غزل کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے دل آج تیری یاد کو بھولا ہوا سا ہے گلشن میں اس طرح سے کب آئی تھی فصل گل ہر پھول اپنی شاخ سے ٹوٹا ہوا سا ہے چل چل کے تھک گیا ہے کہ منزل نہیں کوئی کیوں وقت ایک موڑ پہ ٹھہرا ہوا

کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے Read More »

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں

غزل کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں یہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں بہت مدت ہوئی یہ آرزو کرتے ہوئے ہم کو کبھی منظر کہیں ہم کوئی ان دیکھا ہوا دیکھیں سکوت شام سے پہلے کی منزل سخت ہوتی ہے کہو لوگوں سے سورج کو نہ

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں Read More »

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا

غزل تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا دیکھنے کے لیے اک چہرہ بہت ہوتا ہے آنکھ جب تک ہے تجھے صرف تجھے دیکھوں گا میری تنہائی کی رسوائی کی منزل آئی وصل کے لمحے سے میں ہجر کی شب بدلوں گا شام ہوتے ہی کھلی

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا Read More »

وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے

غزل وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے مگر ہمیں تو وہی ایک شخص بھاتا ہے نہ خوش گمان ہو اس پر تو اے دل سادہ سبھی کو دیکھ کے وہ شوخ مسکراتا ہے جگہ جو دل میں نہیں ہے مرے لیے نہ سہی مگر یہ کیا کہ بھری بزم سے اٹھاتا ہے

وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے Read More »

تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں

غزل تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں زندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیں مرکز دیدہ و دل تیرا تصور تھا کبھی آج اس بات پہ کتنی ہنسی آتی ہے ہمیں پھر کہیں خواب و حقیقت کا تصادم ہوگا پھر کوئی منزل بے نام بلاتی ہے ہمیں دل میں وہ

تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں Read More »

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا

غزل جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا سمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگا اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضروری یہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا خوش فہمی ابھی تک تھی یہی کار جنوں میں جو میں نہیں کر پایا کسی سے نہیں ہوگا تدبیر نئی سوچ کوئی

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا Read More »

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

غزل سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا یہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا یہاں سے گزرے ہیں گزریں گے ہم سے اہل وفا یہ راستہ نہیں پرچھائیوں کے چلنے کا کہیں نہ سب کو سمندر بہا کے لے جائے یہ کھیل ختم کرو کشتیاں بدلنے کا بگڑ گیا جو یہ نقشہ ہوس

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا Read More »

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے

غزل جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے زندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے دھوپ کے قہر کا ڈر ہے تو دیار شب سے سر برہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے مجھ کو اپنا نہ کہا اس کا گلا تجھ سے نہیں اس کا شکوہ ہے کہ بیگانہ سمجھتی کیوں ہے تجھ

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے Read More »

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے

غزل زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے بچھڑے لوگوں سے ملاقات کبھی پھر ہوگی دل میں امید تو کافی ہے یقیں کچھ کم ہے اب جدھر

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے Read More »