MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو

غزل عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو میں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو ہر ایک نقش تمنا کا ہو گیا دھندلا ہر ایک زخم مرے دل کا بھر گیا یارو بھٹک رہی تھی جو کشتی وہ غرق آب ہوئی چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا یارو وہ کون تھا وہ […]

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو Read More »

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے

غزل جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے سب کا احوال وہی ہے جو ہمارا ہے آج یہ الگ بات کہ شکوہ کیا تنہا ہم نے خود پشیمان ہوئے نے اسے شرمندہ کیا عشق کی وضع کو کیا خوب نبھایا ہم نے

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے Read More »

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں

غزل زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں سرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیں دن ڈھلے یوں تری آواز بلاتی ہے ہمیں یاد تیری کبھی دستک کبھی سرگوشی سے رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں ہر ملاقات کا انجام

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں Read More »

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے

غزل سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے دل ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے پتھر کی طرح بے حس و بے جان سا کیوں ہے تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو تا حد نظر ایک بیابان سا کیوں ہے ہم

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے Read More »

تجھے خبر ہے تجھے یاد کیوں نہیں کرتے

غزل تجھے خبر ہے تجھے یاد کیوں نہیں کرتے خدا پہ ناز خدا زاد کیوں نہیں کرتے عجب کہ صبر کی میعاد بڑھتی جاتی ہے یہ کون لوگ ہیں فریاد کیوں نہیں کرتے رگوں میں خون کے مانند ہے سکوت کا زہر کوئی مکالمہ ایجاد کیوں نہیں کرتے مرے سخن سے خفا ہیں تو ایک

تجھے خبر ہے تجھے یاد کیوں نہیں کرتے Read More »

وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے

غزل وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے مری یادوں میں اک بھولا ہوا چہرا بھی رہتا ہے جب اس کی سرد مہری دیکھتا ہوں بجھنے لگتا ہوں مجھے اپنی اداکاری کا اندازہ بھی رہتا ہے میں ان سے بھی ملا کرتا ہوں جن سے دل نہیں ملتا مگر خود سے بچھڑ

وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے Read More »

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے

غزل   اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے یہ بات کسی اور سے کہہ بھی نہیں سکتے تو اپنے گہن میں ہے تو میں اپنے گہن میں دو چاند ہیں اک ابر میں گہ بھی نہیں سکتے ہم جسم ہیں اور دونوں کی بنیادیں امر ہیں اب کیسے بچھڑ جائیں کہ ڈھہ بھی

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے Read More »

جان پیاری تھی مگر جان سے بے زاری تھی

غزل جان پیاری تھی مگر جان سے بے زاری تھی جان کا کام فقط جان فروشی نکلا خاک میں اس کی جدائی میں پریشان پھروں جب کہ یہ ملنا بچھڑنا مری مرضی نکلا صرف رونا ہے کہ جینا پڑا ہلکا بن کے وہ تو احساس کی میزان پہ بھاری نکلا اک نئے نام سے پھر

جان پیاری تھی مگر جان سے بے زاری تھی Read More »

آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو

غزل آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو روح میں روشنی لہجے میں چمک پیدا ہو ایک شعلہ میری آواز میں لہراتا ہے خون میں لہر خیالوں میں للک پیدا ہو قتل کرنے کا ارادہ ہے مگر سوچتا ہوں تو اگر آئے تو ہاتھوں میں جھجک پیدا ہو اس طرح اپنی ہی

آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو Read More »

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے

غزل سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے وہ اندیشے تھے رنگ آنکھوں کے گہرے کر لیے ہم نے خدا کی طرح شاید قید ہیں اپنی صداقت میں اب اپنے گرد افسانوں کے پہرے کر لیے ہم نے زمانہ پیچ اندر پیچ تھا ہم لوگ وحشی تھے خیال آزار تھے لہجے اکہرے

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے Read More »