MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے

غزل

وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے
مری یادوں میں اک بھولا ہوا چہرا بھی رہتا ہے

جب اس کی سرد مہری دیکھتا ہوں بجھنے لگتا ہوں
مجھے اپنی اداکاری کا اندازہ بھی رہتا ہے

میں ان سے بھی ملا کرتا ہوں جن سے دل نہیں ملتا
مگر خود سے بچھڑ جانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے

جو ممکن ہو تو پر اسرار دنیاؤں میں داخل ہو
کہ ہر دیوار میں اک چور دروازہ بھی رہتا ہے

بس اپنی بے بسی کی ساتویں منزل میں زندہ ہوں
یہاں پر آگ بھی رہتی ہے اور نوحہ بھی رہتا ہے

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم