MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ کون آیا شبستاں کے خواب پہنے ہوئے

غزل

یہ کون آیا شبستاں کے خواب پہنے ہوئے
ستارے اوڑھے ہوئے ماہتاب پہنے ہوئے

تمام جسم کی عریانیاں تھیں آنکھوں میں
وہ میری روح میں اترا حجاب پہنے ہوئے

مجھے کہیں کوئی چشمہ نظر نہیں آیا
ہزار دشت پڑے تھے سراب پہنے ہوئے

قدم قدم پہ تھکن ساز باز کرتی ہے
سسک رہا ہوں سفر کا عذاب پہنے ہوئے

مگر ثبات نہیں بے سبیل رستوں میں
کہ پاؤں سو گئے ساقیؔ رکاب پہنے ہوئے

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم